بیت بازی

by Other Authors

Page 304 of 871

بیت بازی — Page 304

304 ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۲ 127 ۱۷۴ ۱۷۵ ۱۷۶ 122 وہ گنہگار ہر موج خونِ گل کا گریباں ہے چاک چاک ہر گل بدن کا پیرہن من اُداس ہے ہو ا جازت ؛ تو ترے پاؤں پہ سر رکھ کے کہوں کیا ہوئے دن تیری غیرت کے دکھانے والے ہم نہ ہوں گے تو ہمیں کیا؟ کوئی کل کیا دیکھے آج دکھلا، جو دکھانا دکھانے والے! ہم نے تو صبر و توکل سے گزاری باری ہاں مگر تم پہ بہت ہوگی یہ بھاری باری ہیں کتنے ہی پابندِ سلاسل نکلے تھے جو سینوں پہ ترا نام سجا کے ہمارے شام و سحر کا کیا حال پوچھتے ہو؟ کہ لحد لحہ نصیب ان کا بنا رہے ہیں تمہارے ہی صبح وشام کہنا ہر مکر اُنہی پر الٹے گا؟ ہر بات مخالف جائے گی بالآخر میرے مولا کی تقدیر ہی غالب آئے گی ہوئی میزان ہفتہ کب آغاز ؟ کیسے دن رات سات سات بنے؟ ہم آن ملیں گے متوالو! بس دیر ہے کل یا پرسوں کی تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دید کے ترسوں کی ہم آمنے سامنے بیٹھیں گے آنکھیں ساؤن برسائیں گی؟ تو فرط طرب سے دونوں کی اور پیاس بجھے گی برسوں کی لمحہ فراق ہے عمر دراز غم گزرا نہ چین سے کوئی پل؛ آپ کیلئے ہم جیسوں کے بھی دید کے سامان ہوگئے ظاہر ہوا تھا حُسنِ ازل؛ آپ کیلئے ہماری خاک پا کو بھی؛ عدو کیا خاک پائے گا ہمیں رکنا نہیں آتا؟ اُسے چلنا نہ آتا ہے ہم نے تو آپ کو اپنا اپنا کہہ کر لاکھ بلا بھیجا اس پر بھی آپ نہیں آئے آپ اپنے ہیں کہ پرائے ہیں ہم جن راہوں پر مارے گئے؟ ظالم نے اپنے ظلم سچ کی روشن راہیں تھیں اپنے ہی اُفق دھندلائے ہیں 60 ނ خود؛ ہم آ بھی کیسے ہیں اپنے خوابوں کی سرمد تعبیروں میں آپ اب تک فانی دنیا میں سپنوں سے دل بہلائے ہیں ہر خوشبو اور ہر رنگ کے؛ پھر چند گلوں کی کی یادیں؛ لاکھوں پھول کھلے ہیں آنگن میں کیوں کانٹوں کی طرح تڑپائے ہیں رخصت؛ کس یاد رہے، باپ کے بیٹے ہیں؟ ہم سر افراز ہوئے ہے آپ سے بھی امید بہت کس ماں کے جائے ہیں