بیت بازی

by Other Authors

Page 284 of 871

بیت بازی — Page 284

284 ۵۶ وہ ہو آوارہ ہر دشت و وادی فسبحان الذى اخزى الاعادي ۵۷ وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رب البرایا دیکھے نیستی رحمت دکھاوے خودی اور خودروی کب اس کو بھاوے آیا منتظر جس کے تھے دن رات معمہ کھل گیا؛ روشن ہوئی بات ΟΛ ۵۹ Y۔۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ وہ وہ وہ نام وہ وہ وہی مئے اُن کو ساقی نے پلادی فسبحان الذى اخزى الاعادي نمود دولت نہیں رہی وہ عزم مقبلانه؛ وہ ہمت نہیں رہی وہ صلاح؛ وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وہ درد، وہ گداز ؛ وہ رقت نہیں رہی خلق خدا شفقت وہ علم، وہ علم و معرفت؛ وہ فراست نہیں رہی وه فکر وہ رحمت نہیں رہی قیاس؛ وہ حکمت نہیں رہی وہ اُنس و شوق و وجد؛ وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد و نہایت نہیں رہی ۶۶ وہ خدا میرا جو ہے جو ہر شناس اک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس ۶۷ ۶۸ ۶۹ 4۔اے ۷۲ ۷۳ وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو؛ کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں ان مشکلوں کا بارو! مشکل کشا یہی ہے وہ نشاں جس کی روشنی سے جہاں وہ داستاں نہاں ہے؛ کس رہ سے اُس کو دیکھیں ویدوں کا سب خلاصہ؛ ہم نے نیوگ پایا ان پتکوں کی رُو سے؛ کارج بھلا یہی ہے ویدوں کو شرم کر کے تم نے بہت چھپایا آخر کو راز بستہ اُس کا کھلا یہی ہے وہ دن گئے؛ کہ راتیں کٹتی تھیں کر کے باتیں اب موت کی ہیں گھاتیں؛ غم کی کتھا یہی ہے یار لا مکانی؛ دلبر نہانی دیکھا ہے ہم نے اُس سے؛ بس رہ نما یہی ہے وہ وہ ے وہ دلبر یگانه علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ؛ سچ بے خطا یہی ہے ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22 وگر تم خالق اُس کو مانتے وہ نا کامل خدا ہوگا کہاں ہو تو پھر اب ناتواں کیوں جانتے ہو کہ عاجز ہو بنانے جسم و جاں سے وہ چمک دکھلائے گا اپنے نشاں کی پنج بار یہ خدا کا قول ہے؛ سمجھو گے سمجھانے کے دن