بیت بازی

by Other Authors

Page 274 of 871

بیت بازی — Page 274

۵۵ نوید احمد 274 محمود کلام طاهر موعود؛ ابن موعود، این موعود ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ نیلگوں بحر محبت پہ تھی محو محو پرواز اپنی ہی موج طرب میں تھی فضا پر رقصاں ނ نبیوں نے سجائی تھی؛ جو بزمِ مہ و انجم واللہ اُسی کی تھی انجمن آرائی ایک ہی جست میں طے کر ڈالے؛ نبیوں کا سرتاج؛ ابنائے آدم کا معراج محمد وصل خدا کے ہفت مراحل نخوت کو ایشیار میں بدلا ؛ ہر نفرت کو پیار میں بدلا عاشق، جان نثار میں بدلا؛ پیاسا تھا جو خار لہو کا نرگس کی آنکھ کم ہے؛ تو لالے کا داغ اُداس غنچے کا دل حزیں ہے؛ تو سوسن اُداس ہے ناحق ہم مجبوروں کو اک تہمت دی جلا دی کی قتل کے آپ ارادے باندھے ، ہم کو عبث بدنام کیا سے منقطع ہر ذات جس کا تو ہو؛ اُسی کی ذات بنے نیچ ہے نہ وہ تم بدلے، نہ ہم ؛ طور ہمارے ہیں وہی فاصلے بڑھ گئے؛ پر قُرب تو سارے ہیں وہی نحیف جان بہت بوجھ اُٹھا کے چلتی رہی ہر ایک نقشِ قدم پر تھا؛ مرتسم اعجاز نحیف ہونٹوں سے اُٹھی ندائے استغفار نوائے تو بہ تھی؛ اللہ کی قسم اعجاز ناداری میں ناداروں کے رکھوالے تھے کچھ لوگ بخشش کے بھکاری؛ گنہگاروں کے سہارے ۶۷ نحوستوں کا قلندر ہے پیر تسمہ پا کسی دن اس کو گلے سے اُتار کر دیکھو نقاب اوڑھ رکھا ہے؟ جو مولویت کا اُتار پھینکو اسے تار تار کر دیکھو نیچارہ کے عُمر ہنڈائی، سب دا سیوک ، سب دا پائی ذات اُچی سی، گم وڈے پر نت بیندا سی تھکے داسیوک، دا نیچارہ کے اندراندر، اُچا یار کمایا باروں دڑ وٹ رکھی؛ جیویں لکھ نہ ہووے پلّے ا۔ناگاہ تیری یاد نے یوں دل کو بھر دیا گویا سمٹ گیا اُسی کوزہ میں نورشب نالے بین کریں اور ندیاں منہ سے جھاگ اڑائے اپنا سر پتھروں پر چلیں؛ سینے کو بھرائے ۶۸ ۶۹ ۷۲ ۷۳ ۷۴ نرگسی چشم نیم باز اُس کی چمن دل کھلا چمن کھلا تھا نیند آئی ہے تھک ہار چکا ہوں، چھوڑو بھی پچھلی باتیں میں رات بہت جاگا ہوں ؛ اب تو صبح تلک سستانے دو