بیت بازی — Page 273
273 ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۲ ۴۳ ۴۵ ۴۶ ۴۷ نعمتیں وہ دیں میرے مولیٰ نے اپنے فضل سے جن سے ہیں معنی اتــمــمـت عـليـكـم آشکار ناز مت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں اس کو ہیرا مت گماں کر ؛ ہے یہ سنگِ کو ہسار کوہسار نیک ظن کرنا طریق صالحانِ قوم ہے لیک سو پردے میں ہوں ان سے نہیں ہوں آشکار نوع انساں میں بدی کا تخم ہونا ظلم ہے وہ بدی آتی ہے اُس پر؛ جو ہو اُسکا کاشتکار نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے دیں نصرانیت کا ہو گیا خدمت گذار نسل انساں سے مدد اب مانگنا بیکار ہے اب ہماری ہے تری درگاہ میں یارب پکار نہ شہوت ہے؟ نہ ہے کچھ نفس کا جوش ہوا اُلفت کے پیمانوں سے مد ہوش نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی خدائی کا در عدن ہے نہ کیوں سو جاں سے دل اُس پر فدا ہو کہ وہ محبوب ہی جانِ وفا ہے نبھا دی اُس نے جس سے دوستی کی پھرا ہے جب بھی؛ بندہ ہی پھرا ہے ۲۴ نہیں کچھ اس کے احسانوں کا بدلہ کسی نے جان بھی دے دی؛ تو کیا ہے نہ کیوں دلوں کو سکون و سرور ہو حاصل که قرب خطه رشک جناں میں رہتے ہو نور و جمیل! نور دل و جاں میں بخش دے اس کے کرم سے چاند سی طلعت نصیب ہو نکلیں تمہاری گود سے پل کر وہ حق پرست ہاتھوں سے جن کے دین کو نصرت نصیب ہو نرغہ اعداء میں گھر کر بھی نہ ڈر جانا کبھی خواہش اعلائے حق تھی؛ شوق تھا دیدار کا نوک خامہ سے سلجھتی گتھیاں دیکھا کئے خوب تار و پود بگڑا دجل کی سرکار کا نبی کے نام مقدس کی آڑ لے لے کر وفا کی شان دیکھانے چلے جفا کیلئے نہ روک راہ میں مولا شتاب جانے دے کھلا تو ہے تیری جنت کا باب؛ جانے دے نقش دل پر ایک تصویر خیالی رہ گئی گود ماں کی بھر کے؛ پھر خالی کی خالی رہ گئی ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ نور می بارد و شادان؛ در و سقف و دیوار اے خوشا وقت مکیں سوئے مکان می آید ۵۴ نازاں ہے اس پہ جس کو فصاحت عطاء ہوئی جادو بیاں کو اپنی طلاقت پہ ناز ہے