بیت بازی — Page 272
272 نور دکھلا کے تیرا سب کو کیا ملزم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش ہستی تری اُلفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تیری رہ میں اُڑایا ہم نے ہے کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤں گا جو تیرا ہو؟ وہ اپنا ٹھہراؤں گا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز کرا نہیں عقل اُس کو نہ کچھ غور ہے جانا کہ الہام ہے ہے کیمیا اسی دید ہے؛ یا ہے؛ یا کوئی اور ہے تو ملتا گنج لقاء ہے نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی خبر تو واقف نہیں اس سے؛ اے بے ہنر! نه مردی ہے تیر اور تلوار ނ بنو مرد؛ مردوں کے کردار سے نہ مجھے تو آخر کو پچھتاؤ گے گڑو کے سراپوں کا پھل پاؤ گے نجات ان کو عطا کر گندگی برات ان کو عطا کر بندگی سے ޏ مولی انھیں ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ چھوڑیں وہ ترا آستانه مرے ۲۴ : دیکھیں وہ زمانہ ہے کسی کا مصیبت کا، آلم ہر دم کا بے بسی کا بچانا ۲۵ نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق وہ موتی اُٹھاوے ۲۶ نبیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دینا گنوں سا کھولنا منہ؛ تخم فنا یہی ہے أن بن کر سکے زور آزمائی : نہ اُن بن چل سکے اس کی خدائی ۲۷ ۲۸ نظر سے اس کے ہوں محجوب و مکتوم نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم ۲۹ : ۳۱ که ہوگا کوئی ایسا مت زمیں پر باتیں کہے جاں آفریں پر ۳۰ نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائیگا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنیوالی ہے نور خدا کی اس میں علامت ہی کیا رہی توحید خشک رہ گئی؛ نعمت ہی کیا رہی ناپاک زندگی ہے؛ جو ڈوری میں کٹ گئی دیوار زُھد خشک کی آخر کو پھٹ گئی نوردل جاتا رہا؟ اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں؟ کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار ۳۲ ۳۳