بیت بازی — Page 255
255 مگر مسلمانوں پر حیرت ؛ ہے مگر خُدائے رحیم جو اپنے بندوں کا ہے نگہباں جنھوں نے پائی ہے ایسی نعمت نه یاد و رحماں ؛ جو عقی شهنشاه جن ہے دلوں پر چھائی ہے پھر بھی غفلت؛ ہے، نے خُدا ہے و انساں جو ذره ذرہ کو دیکھتا ہے ۲۹۶ ۲۹۷ ۲۹۸ ۲۹۹ مسیح دوراں، مثیل عیسی ، بجا ہے دنیا میں جس کا ڈنکا خدا سے ہے پا کے حکم آیا ملا اسے منصب طدی ہے مقابلہ میں جو تیرے آیا نہ خالی بیچ کر کبھی بھی لوٹا یہ دید یہ دیکھ کرمسیحی؛ جو کوئی حاسد ہے، جل رہا ہے محمود کیا بعید ہے دل پر جو قوم کے نالہ اثر کرے یہ کسی نوحہ خوان کا ۳۰۱ محمود نہ کیوں اس کے مخالف ہوں پریشاں نائب ہے نبی کا وہ؛ فرستادہ خُدا کا ۳۰۲ مجھ سے سعو؛ کہ اتنا تغیر ہے کیوں ہوا جو بات گل نہاں تھی؟ ہوئی آج کیوں عیاں ۳۰۳ محمود دردِدِل سے یہ ہے اب مری دُعا قیصر کو بھی ہدایت اسلام ہو عطا نہیں لذت حیات جاوداں میں ۳۰۵ مثال آئینہ ہے دل؛ کہ یار کا گھر ہے مجھے کسی سے بھی اس دہر میں غبار نہیں ۳۰۶ مقابلہ میں مسیح زماں کے جو آئے وہ لوگ وہ ہیں، جنھیں حق سے کچھ بھی پیار نہیں ۳۰۴ ۳۰۷ ۳۰۸ ۳۰۹ : مزا جو یار پر کرنے میں ہے؛ وہ مقدر اپنے حق میں عز و شاں ہے جو ذلت ہے؛ نصیب دشمناں ہے قادیان؛ دار الاماں مریض عشق تیرا؛ نیم جاں ہے مسیحائے زماں کا یاں مکاں ہے زمین مسیحا ނ کوئی کہہ دو جا کر گو زور پر آج ۳۱۰ مخالف ا ۳۱۱ اپنے ہیں مرا ڈوگی؛ دم معجز نما مگر ان سے قوی تر پاسباں ہے سے عیسی کی صداقت کا نشاں ہے ۳۱۲ مسلمانوں کی بد حالی کے غم میں دھرا سیلند؛ پر اک سنگِ گراں ہے ۳۱۳ اندھیرے میرا دل اُس نے روشن کر دیا ہے ۳۱۴ مسیحا کو نہیں خوف و خطر کچھ حمایت پر تلا اُس کی خُدا ۳۱۵ گھر کا میرے وہ دیا ہے ہے میرا ہر ذره ہو قربان احمد میرے دل کا یہی اک مدعا ہے