بیت بازی

by Other Authors

Page 239 of 871

بیت بازی — Page 239

239 ۷۳ ۷۴ لذت وصل ہی میں سب کچھ ہے اس سے ملنے کا کچھ بہانہ بنا لاکھوں خطائیں کر کے ، جو جھکتا ہوں اس طرف پھیلا کے ہاتھ ملتے ہیں مجھ سے وفا یہ ہے وہ ۷۵ ٹوٹنے اُنھیں کہاں فرصت پریشان حال ہیں ایسے لیڈر قوم بھی ہیں؟ ڈاکو بھی اُن کے اندر کمال ہیں ایسے لگاؤں سینہ سے؛ دل میں بٹھاؤں میں تجھ کو نہ دُور بھاگ یونہی؛ میرے پاس آ تو سہی لعنت خدا کے بندوں پہ؛ حاشا! کبھی نہیں بچنا ہے گر تو لعنت کفارہ چھوڑ دے لگ رہی ہے جہان بھر میں آگ گھر میں ہے آگ؛ رہ گذر میں آگ کب پر ان کے قہقہے ہیں ؛ ان کی آنکھوں میں بہار روح انسانی ہے پر خاموش بیٹھی سوگوار لوگ بیتاب ہیں بیحد؛ کہ نمونہ دیکھیں سالک رہ کیلئے مجھ کو نمونہ کر دیں لاکھ حملہ گن ہو مجھ پر فتنہ زندیقیت بیچ میں آجائیو! بن جائیو میری سپر لعل و گہر کے عشق میں دنیا ہے پھنس رہی تو اس سے آنکھ موڑ ؛ ہے مولا کا لال تُو ۸۰ ۸۲ ۸۳ ۸۵ ΛΥ راتیں ۸۴ لاکھ دن ان کے نام پر قرباں نکہتیں راتیں؟ عنبریں لٹکی ہے ہر اک گوشہ میں تصویر کسی کی دل کو نہ میرے چھوڑئیے! ویرانہ سمجھ کر لاکھ دوزخ سے بھی بدتر ہے؛ جدائی آپ کی بادشاہی سے ہے بڑھ کر؛ آشنائی آپ کی لڑھکنا ہی تھا قسمت میں، تو بیہوشی بھی دی ہوتی نہ احساس وفا رہتا؛ نہ پاس آشنا رہتا لیکھو سے کہا تھا جو ہوا وہ پورا کیا تم نے وہ دیکھی نہیں! مرزا کی دُعا ۸۹ لڑتے بھڑتے رہیں؛ آپس میں امیر اور وزیر کیوں پسیں گھن کی طرح ساتھ غریب اور فقیر لا ۸۸