بیت بازی — Page 11
11 ۱۴۴ ۱۴۵ اے آریو! یہ کیا ہے؟ کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑو؛ راہِ حیا یہی ہے اچھا نہیں ستانا؛ پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا؛ اس کی جزا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت ؛ یا رب! مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے؛ میری دعا یہی ہے ۱۴۷ اگر کھینچے کوئی کینے کی تلوار تو اس سے کب ملے کچھڑا ہوا یار ۱۴۶ ۱۴۸ اگر بھولے رہے اس سے ۱۴۹ اگر ۱۵۰ ۱۵۱ کوئی جاں تو پھر ہو جاوے اس کا ملک ویراں ہر ذرہ اس بن خود عیاں ہو تو ہر زرے کا وہ مالک کہاں ہو اگر خالق نہیں روحوں کی وہ ذات تو پھر کا ہے کی ہے؟ قادر وہ ہیہات اگر اس پن بھی ہوسکتی ہیں اشیاء تو پھر اس ذات کی حاجت رہی کیا شئے نہیں اس نے بنائی تو بس پھر ہوچکی اس سے خدائی ۱۵۳ اگر اس میں بنانے کا نہیں زور تو پھر اتنا خدائی کا کیوں شور ہے ۱۵۲ اگر سب تو پھر سوچو ذرا ۱۵۴ اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند ہو کے خردمند ۱۵۵ اگر اس محل کو طالب لگائے تو اک دن ہو رہے برتھا نہ جائے ۱۵۶ اس قدر کین و تعصب بڑھ گیا جس سے کچھ ایماں جو تھا؛ وہ سڑ گیا ۱۵۷ اے عزیزو! اس قدر کیوں ہو گئے تم بے حیا کلمہ گو ہو؛ کچھ تو لازم ہے تمہیں خوف خدا ۱۵۹ ۱۶۰ ۱۶۱ وہ نخچیر ۱۵۸ الہی بخش کے کیسے تھے یہ تیر کہ آخر ہو گیا ان کا اسی پر اس کی لعنت کی پڑی مار کوئی ہم کو تو سمجھاوے یہ اسرار اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے؛ بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو؛ اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے اے میرے پیارے ! یہی میری دعا ہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اس خونِ دل کھانے کے دن اک نشاں دکھلا ؛ کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلا ہے ہاتھ سے؛ لا جلد ٹھہرانے کے دن اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو! کہ آئے کفر کو کھانے کے دن الہی ! خطا کر دے میری معاف کہ تجھ بن تو رب البرایا نہیں ین ایسا گماں خطا ہے؛ کہ وہ ذات پاک ہے ایسے گماں کی نوبت آخر ہلاک ہے ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵