بیت بازی

by Other Authors

Page 220 of 871

بیت بازی — Page 220

220 ۳۶۸ ۳۶۹ کبھی جو طالب دید رخ نگار ہوا تو آئینہ میں میرا منہ دکھا دیا مجھ کو کوئی خوش ہے، شاد ہے؛ سرشار ہے کوئی اپنی جان وہ کیا ڈراتے ہیں مجھے خنجر کلام اللہ میں سب کچھ بھرا ہے اس کو پڑھایا کلام الله سب بیزار ہے چن کے سر پر بھینچ رہی تلوار ہے بیماریوں کی اک دوا ہے گلشن قرآں کا گل چیں ہو کرے اس کی اگر تو آب پاشی تو پھر ممکن نہیں بیم خزاں ۲۷۴ کیا سبب میں ہو گیا ہوں اس طرح زار و نزار کس مصیبت نے بنایا ہے مجھے نقش چدار ۳۷۵ ۳۷۷ ۳۷۸ ۳۸۰ ۳۸۱ کیوں پھٹا جاتا ہے سینہ جیب عاشق کی مثال روز و شب صبح و مسا رہتا ہوں میں کیوں دلفگار کیوں تسلی اس دِلِ بے تاب کو ہوتی نہیں کیا سبب اس کا کہ رہتا ہے یہ ہر دَم بے قرار کیا سبب جو خون ہو کر بہہ گیا میرا جگر بھید کیا ہے میری آنکھیں جو رواں ہیں سیل وار کون ہے حیا دمیرا کس کے پھندے میں ہوں میں کس کی افسونی نگاہ نے کر لیا مجھ کو شکار ۳۷۹ کیوں میں میدان تفکر میں برہنہ پا ہوا کیوں چلے آتے ہیں دوڑے میری پابوسی کو کو خار کچھ خبر بھی ہے تمھیں مجھ سے یہ سب کچھ کیوں ہوا کیوں ہوئے اتنے مصائب مجھ سے آکر ہمکنار کیا قصور ایسا ہوا جس سے ہوا معتوب میں کیا کیا جس پر ہوئے چاروں طرف سے مجھ پہ وار رکس کی فرقت میں ہوا ہوں رنج و غم سے ہمکنار ہجر میں کس کی تڑپتا رہتا ہوں لیل و نہار رکس کے لعل کب نے چھینا سب شکیب و اصطبار کس کی ڈز دیدہ نگاہ نے لے لیا میرا قرار رکس کے نازوں نے بنایا ہے مجھے اپنا شکار کس کے غمزہ نے کیا ہے مثل باراں اشکبار کہتے ہیں بہر خرید یوسف فرخنده فال ایک بڑھیا آئی تھی باحالت زار و نزار کور ہیں آنکھیں جنھوں نے شکل وہ دیکھی نہیں گوش کر ہیں جو نہیں سنتے کبھی گفتار یار کبھی جس کو رشیوں نے منہ سے وہی جام اب میں پیا چاہتا ہوں کچھ اُمنگیں تھیں کچھ اُمیدیں تھیں یاد آتے ہیں اب وہ خواب مجھے ۳۸۲ ۳۸۳ ۳۸۴ ۳۸۵ ۳۸۶ ۳۸۷ ۳۸۸ لگایا