بیت بازی

by Other Authors

Page 219 of 871

بیت بازی — Page 219

219 ۳۴۶ ۳۴۸ ۳۴۹ ۳۵۰ کیا غم ہے؛ اور ہے؛ اور درد ہے کس بات کا اسے کس رنج اور عذاب میں ہے مبتلا ہوا ۳۴۷ کوشاں حصول مطلب دل میں ہوں اس قدر کہتا ہوں تم کو سچ ہمہ تن التجا ہوں میں کچھ اپنے تن کا فکر ہے مجھے کو؛ نہ جان کا دین محمدی کیلئے کر رہا ہوں میں کہتا ہوں سچ کہ فکر میں تیری ہی غرق ہوں اے قوم سُن ! کہ تیرے لیے کر رہا ہوں میں کیا جانے تو کہ کیسا مجھے اضطراب ہے کیسا تپاں ہے سینہ؛ کہ دل تک کباب ہے کوئی وہ دن تھا کہ پاس اپنے وہ تھے بٹھاتے بلا بگلا کر نکالتے ہیں مگر وہاں سے دکھتا مجھے اب بتا بتا کر بلا کبھی جو تعریف کیجئے، تو وہ کہتے ہیں یوں بگڑ بگڑ کر مزاج میرا پگاڑتے ہیں؛ بنا بنا کر، بنا بنا کر کھینچ کر پردہ رُخ یار کو عریاں کر دیں وہ ہمیں کرتے ہیں؛ ہم ان کو پریشاں کر دیں کتنی ہی پل صراط کی گو تیز دھار ہو یارب میرا وہاں بھی قدم اُستوار ہو کیسا فقیر ہے وہ جو دل کا نہ ہو غنی وہ زار کیا؛ جو رنج و مصیبت سے زار ہو ۳۵۱ ۳۵۲ ۳۵۳ 후후후 ۳۵۴ ۳۵۵ ۳۵۶ ۳۵۷ ۳۵۸ ۳۵۹ ۳۶۰ ۳۶۱ ۳۶۲ ۳۶۳ گوچه یار ہے مجھ کو نکلنا دوبھر کیا تجھے وعدہ تِرا لغزشِ پا یاد نہیں کون دے دل کو تسلی؛ ہر گھڑی آب آڑے وقتوں میں آڑے آئے کون کون دکھلائے ہمیں راہ ھدی حضرت باری سے آب ملوائے کون کون دنیا سے کرے ظلمت کو دُور راه پھولے ہوؤں کو لائے کون پر کون میرے واسطے زاری کرے درگہِ ربی میں؛ میرا جائے کون کل نہیں پڑتی اسے اُس کے سوا اس دل غمگیں کو اب سمجھائے کون رکس کی تقریروں سے اب دل شاد ہو اپنی تحریروں سے اب پھڑکائے کون کس کے کہنے پر ملے دِل کو غذا ہم کو آپ زندگی پلوائے کون کون دے دل کو میرے صبر و و قرار اشک خونیں آنکھ سے پنچھوائے کون ۳۶۵ کرے گا نعرة الله اکبر کوئے قاتل میں ابھی تک کچھ نہ کچھ باقی ہے دم اس مرغ بسمل میں کسی کی موت نے سب کچھ بھلا دیا مجھ کو اس ایک چوٹ نے ہی سٹپٹا دیا مجھ کو کسی نے ثانی شیطاں بنا دیا مجھ کو کسی نے لے کے فرشتہ بنا دیا مجھ کو ۳۶۴