بیت بازی — Page 207
207 1۔1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ ۱۰۷ 1+9 11۔کس کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد یہ تو تیرے پر نہیں اُمید ؛ اے میرے حصار طرح پیٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی؟ کہ کیسے سو گئے کس قدر ہے حق سے نفرت؛ اور ناحق سے پیار کیا خدا نے اتقیاء کی عون و نصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کافر سے وہ کیوں کرتا ہے پیار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ؛ از ابتدائے روزگار کیا خدا بھولا رہا؟ تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بیخبر؛ اور تم نے دیکھا حالِ زار ۱۰۶ کانٹے اپنی راہ میں ہوتے ہیں ایسے بد گماں جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش اکو داع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار کون روتا ہے؛ کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہر و مہ کی آنکھ غم سے ہوگئی تاریک و تار کیا کروں تعریف حُسنِ یار کی ؟ اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں ؛ سیلِ نفسِ دُوں سے پار کیا تماشا ہے؛ کہ میں کافر ہوں، تم مومن ہوئے پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار کیا اچھی بات ہے؛ کافر کی کرتا ہے مدد وہ خدا؛ جو چاہیئے تھا مومنوں کا دوستدار کیوں نہیں تم سوچتے؟ کیسے ہیں یہ پردے پڑے دل میں اُٹھتا ہے مرے رہ رہ کے اب سوسو بخار کچھ نہ تھی حاجت تمہاری؛ نے تمہارے مکر کی خود مجھے نابود کرتا؟ وہ جہاں کا شہریار کیا قسم کھائی ہے یا کچھ بیچ قسمت میں پڑا روز روشن چھوڑ کر ہیں؛ عاشق شبہائے تار کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک اژدھا بن بن کے آئے؛ ہوگئے پھر سوسمار کیا مجھے تم چھوڑتے ہو؛ جاہ دنیا کیلئے جاه دنیا کب تلک؛ تلک؛ دنیا ہے خود نا پائیدار کون در پردہ مجھے دیتا ہے ہر میداں میں فتح کون ہے؟ جو تم کو ہردم کر رہا ہے شرمسار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو! کہ چرچا کس قدر ہے ہر کنار کھول کر دیکھو برا ہیں؛ جو کہ ہے میری کتاب اس میں ہے یہ پیشگوئی؛ پڑھ لو اس کو ایک بار کون تھا؟ جس کی تمنا یہ نہ تھی اک جوش سے کون تھا؟ جس کو نہ تھا اُس آنیوالے سے پیار کون ہے؛ جس کے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا پن اس کے جس کا دل فگار ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ ١١٩ ۱۲۰ ۱۲۱