بیت بازی — Page 201
201 ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۵ ۵۶ ۵۸ ۵۹ ه قُرب اُس کا نہیں پاتا؛ نہیں پاتا محمود نفس کو خاک میں جب تک نہ ملائے کوئی قوم کے دل کے دل یہ کوئی بات نہیں کرتی اثر تو ہی کھولے گا؛ تو کھولے گا یہ تالے پیارے! قلب عاصی جو بدل جائے تو کیوں پاک نہ ہو ئے اگر طیب و صافی ئے اگر طیب و صافی بنے؛ سر کہ ہو کر ۵۴ قوت تو مجھے چھوڑ چکی ہی تھی کبھی کی اب صبر بھی کیا جانے کدھر کو ہے سدھارا تخرب دلدار کی راہیں تو کھلی ہیں لیکن کھلی ہیں لیکن کیا کروں میں جسے اسباب میٹر ہی نہیں قرآن پاک میں بھی تیرا نام نور ہے كيف وصال سے ترا دل پرسرور ہے قدموں میں اپنے آپ کو مولا کے ڈال تو خوف و ہراس غیر کا؛ دل سے نکال تو قرآن سے ہم نے سیکھی ہے تدبیر بے خطا صید ہما کے واسطے؛ اک دام لائے ہیں قرض سے دور رہو؛ قرض بڑی آفت ہے قرض لے کر جو اکڑتا ہے؛ وہ بے غیرت ہے قرباں ہوں زخم دل پہ کہ سب حال کہہ دیا شکوہ کا حرف کوئی مگر درمیاں نہیں قید و بند حرص میں گردن پھنسائی آپ نے اس حماقت پر ہے دعوی فاعل مختار کا قدم بڑھا! کہ ہے دیدار یار کی ساعت الٹنے والا ہے منہ سے نقاب کہتے ہیں کون چھوڑے؛ مال ہیں ایسے ہے فقط اس حُسنِ عالمگیر کی تیرے عاشق کو بھلا حاجت ہی کیا زنجیر کی مومن ہے انوار سماوی کا نزول روشن اس جنگ کو یہ اللہ کا دیا کرتا ہے ۶۶ قسمت نے کیسا جوڑ ملایا ہے و وہ خالق جہاں ہے؛ تو مُشتِ غبار ہم قرآن پاک ہاتھ میں ہو دل میں نور ہو مل جائے مومنوں کی فراست؛ خُدا کرے ہو پھر سے حکم محمد جہان میں ضائع نہ ہو تمہاری یہ محنت خُدا کرے قید شیطاں سے چھڑانے کیلئے عاصی کو چھڑانے کیلئے عاصی کو کس نے تکلیف اُٹھائی تھی؛ ہے تیرا احساں بحر افکار کے ہے پار اُتارا ہم کو บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۷ ۶۸ ۶۹ اے قوم کے مال پھر خیانت قید کافی قلب قائم ޏ دیکھنا قوم انگلش نے دیا آکے سہارا ہم کو کلام حضرت خليفة المسيح الثالث قصے کہانیاں نہ سُناتے؛ تو خوب تھا زندہ نشان کوئی دکھاتے؟ تو خوب تھا