بیت بازی

by Other Authors

Page 191 of 871

بیت بازی — Page 191

191 ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 12 ۱۸ ۱۹ غفلت پہ غافلوں کی روتے رہیں ہیں مرسل پر اس زماں میں لوگو! نوحہ نیا یہی ہے غرض پند و نصیحت ہے نہ کچھ اور خدا کے واسطے تم خود کرو غور غرض جب سب نے اُس ملتی کو پایا تو ایشر کی ہوئی ختم مایا سب غیر کیا جانے؛ کہ غیرت اُس کی کیا دکھلائے گی خود بتائے گا اُنھیں وہ یار بتلانے کے دن غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا؛ اُس کے ہوئے ہم جانثار غل مچاتے ہیں؛ میں تو خود رکھتا ہوں؛ یہ کافر ہے اور دجال ہے ان کے دیں سے اور ایماں سے عار غیر ہو کر، غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار غل مچاتے ہیں؟ کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے پاک کو ناپاک سمجھے ہو گئے مُردارخوار 19 غیر کو غیر کی خبر کیا ہو نظر درٌ عَدَن دور؛ کارگر کیا ہو ۲۰ غذائی روح بــــدانـــم لــقـــاء احمد را مپرس این که چه حاصل دلائے احمد را؟ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ کلام طاهر غیر مسلم کسے کہتے ہیں؟ اُسے دکھلائے ایک اک سارکن ربوہ کی جبیں؛ آج کی رات غم فرقت میں کبھی اتنا رُلانے والے کبھی دلداری کے جھولوں میں جھلانے والے غریب تھل کے دوکانوں میں ٹیلی ویژن کی بڑی لگن، بڑی چاہت سے' کھل' کے دیکھتے ہیں غضب ہوا؛ کہ مشرکوں نے بت کدے بنا دیے خدا کے گھر؛ کہ درسِ وحدتِ خدا، جہاں ملے هم دنیا کی ہے؛ دوا غم عشق دم عیسی نہیں ہوا دم عشق غم دے کے؛ کے فکر مریض شب غم ہے یہ کون ہے؛ جو درد میں رس گھول رہا ہے ۲۷ غنا نے اُس کی جو عرفان بندگی بخشا نہیں تھا وہ کسی جود و عطا سے کم اعجاز غضب کیا ہے جو کانٹوں سے پیار کر دیکھا اب آؤ پھولوں کو بھی ہمکنار کر دیکھو غفلت میں عمر کی رات کئی دل میلا بال سفید ہوئے اُٹھ چلنے کی تیاری کر ؛ سورج سر پر چڑھ آیا ہے ۲۶ ۲۸ ۲۹