بیت بازی — Page 178
178 ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۶ ۳۷ ۳۸ صبا! تیر اگر وہاں گذر ہو؛ تو اتنا پیغام میرا دیکھو اگر چہ تکلیف ہو گی تجھ کو؛ پہ کام یہ بھی ثواب کا ہے ہوگی صِرتُ كَصَيْدِ صِيْدَ فِي الصُّبحِ غِيلَةً قَد غَابَ عَنِّي مَقصَدِي وَ مَـامِـي صید زخمی کی تڑپ میں تم نے پایا ہے مزہ ہے مرا دل جانتا؛ لذت تمہارے تیر کی صدیوں سے لوٹ رہا ہے تیری دولت دجال دلبرا ! تیری وہ ثروت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں صدیوں اس نے تیرا ہے اس نگہباں کی نگہبانی تو دیکھ پہرہ دیا ۳۵ صاف ہو جائے دِل کافرومنکر جس تیری تقدیر میں ایسی کوئی تدبیر نہیں صبح اپنی دانہ چیں ہے؛ شام اپنی ملک گیر ہاں بڑھائے جا قدم، سستی نہ کر ؛ اے ہم صفیر ! صبر و تمکیں تو الگ؛ دل تک نہیں باقی رہا راہ اُلفت میں لٹا ایسا؛ کہ اب نادار ہوں صحبت عیش و طرب اس کو نہیں ہوتی نصیب درد و غم، رنج و الم ؛ یاس وقلق سے ہے دوچار ۳۹ صفحہ دل سے مٹایا؛ کیوں مجھے احباب نے کیوں مرے دشمن ہوئے کیوں مجھ سے ہے کین ونقار صدمه درد و غم و ہم سے بچائے کوئی اس گرفتار مصیبت کو چھڑوائے کوئی صبر کر اے ناقہ راہ ھدی ہمت نہ ہار دُور کر دے گی اندھیروں کو؛ ضیائے قادیاں صید و شکار غم ہے تو مسلم نخستہ جان کیوں اُٹھ گئی سب جہان سے؛ تیرے لیے آمان کیوں صدحیف ایسے وقت کو ہاتھوں سے کھو دیا وا حسرتا! کہ جیتے ہی جی؛ تم تو مر گئے صادق ہے اگر تو صدق دکھا؛ قربانی کر ہر خواہش کی ہیں جنسِ وفا کے ماپنے کے دُنیا میں یہی افسانے دو ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴