بیت بازی — Page 177
177 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ودرٌ عَدَن صحن چمن سے گل جو گئے مثل بوئے گل رحمت کی بارشوں سے نکھارے کب آئیں گے صبر کر صبر؛ کہ اللہ کی نصرت آئے تیری کچلی ہوئی غیرت پر وہ غیرت کھائے صرف کر ڈالیں خدا کی راہ میں سب طاقتیں جان کی بازی لگا دی؛ قول پر ہارا نہیں صحت بھی ہو، عزت بھی ہو؛ دین بھی، دولت بھی سیرت ہے بہت اچھی؛ ظاہر ہو یہ صورت بھی مبارک آرہے ہیں آج وہ روز و شب بے چین تھے جن کیلئے تو ہے صبر جمیل صد صبر ہر رنگ میں اچھا ہے؛ پر اے مرد عقیل! ۱۸ غلط الزام موجد ہو صبر؛ صنعت پہ اپنی ناز ہے؛ صناع کو اگر کو اپنی طبع کی جودت ناز ہے ۹ صد کوہ مصائب کی بھی پروا نہیں کرتا وہ سر ؛ کہ اُٹھا جس نے لیا بار محبت ۱۹ کلام طاهر موت کے چنگل سے؛ صدیوں کے مُردوں کا م صلّ عليـ ــه كيف يحيـ انسان کو دلوانے آزادی آیا صحن گلشن میں وہی پھول کھلا کرتے ہیں چاند راتیں ہیں وہی؛ چاند ستارے ہیں وہی صبر کی کرتا ہے تلقین وه، اوروں کو ؛ مگر کاش اُس کو بھی تو اس غم سے قرار آجائے ھجوں کے اُجالوں سے لکھیں گے؛ ترے نغمے سر پر ترے باندھیں گے؛ فتوحات کے سہرے صبر کا درس ہو چکا؛ اب ذرا حال دل سنا کہتے ہیں تجھ کو ناصحا؛ چین نہ ایک پل پڑے صبح صادق پر صدیقوں کا ایمان نہیں ڈولا اندھی رات کے گھور اندھیروں نے بہکا یا ساری رات کلام محمود صد مبارک مہدی مسعود کو کیوں خوشی سب سے نہ بڑھ کر اس کو ہو صیغۂ ڈاک کو اُنھوں نے ہی ترقی دی ہے مُلک میں چاروں طرف تار بھی پھیلائی ہے صُبح کو خوف کہ ہو آج کا کیسا انجام رات دن کاٹتے اس طرح سے تھے وہ ناکام صداقت کو اب بھی نہ جانا؟ تو پھر کب که موجود اک ہم میں؛ مردِ خُدا ہے ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹