بیت بازی

by Other Authors

Page 169 of 871

بیت بازی — Page 169

169 ۱۵۶ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ 17۔۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ سارے جہاں کے ظلم کیوں ٹوٹتے ہیں تجھی پہ آج بڑھ گیا حد صبر سے عرصہ امتحان کیوں وقف خیال یار ازلی دل نورِ وفا سے مہر تاباں۔آمین سب عمر بسر ہو اتھا میں ہر لحظه رہے یہ زیر فرماں۔آمین سونگھی نہ ہوئے خوش؛ نہ ہوئی دید گل نصیب افسوس! دن بہار کے یونہی گزر گئے سالک تھا اسی فکر و غم و رنج میں ڈوبا ناگاہ اُسے ہاتف شیمی نے پکارا سب لوگ کیا سبب ہے کہ بے گیف ہو گئے ساقی کدھر کو چل دیئے؛ میخانے کیا ہوئے سجه اشک پروئی ہے؛ وہ تُو نے واللہ گبر بھی اب تو؛ مسلمان ہوئے جاتے ہیں سر ہے، پر فکر نہیں؛ دِل ہے، پر اُمید نہیں اب ہیں بس شہر کے باقی یہی ویرانے دو سوا اس کے؛ کہ آب خود آپ ہی فرمائیں سجدہ کا اذن دے کے مجھے تاج ور کیا پاؤں تیرے کہاں ؛ مرا ناچیز سر کہاں ۱۶۵ سعی پیہم میری ناکام ہوئی جاتی ۱۶۶ کچھ لطف ہے ہے صبح آئی ہی نہیں؛ شام ہوئی جاتی سزائے عشق ہجر ہے؛ جزائے صبر وصل ہے میری سزا وہی تو ہے؛ میری جزا وہی تو ہے ۱۶۷ سمجھتا تھا اِرادے ساتھ دیں گے مگر ۱۶۸ سمجھتا تھا کہ ہوں صید مصائب مگر ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۲ وہ بھی یونہی مہمان نکلے سوچا؛ تو سب احسان نکلے سوچتا کوئی نہیں فردوس کیوں مقصود ہے آرزو باقی ہے؛ لیکن مدعا مفقود ہے سر کو پاؤں پر دھروں گا آنکھیں تلووں سے ملوں گا نقش پا کو چوم لوں گا؛ میں تمھیں جانے نہ دوں گا کر سمٹ بن گئی نیکی سویدا سلام؛ اللہ کی پہلی عنایت ۱۷۳ سبزه گیاه کا کہوں کیا حال أفق پر چھا گئیں اس کی خطایا محا نے چه بخشی تھی برکت نے جیسے ڈالتا تھا جال ۱۷۴ سبزہ اک عکس زلف جاناں ہے تصور ہی بال بال میں تھا ۱۷۵ سارکنان جنت فردوس بھی ہو جائیں مست دل میں وہ خوشبو بسا دے؛ ہاں بسا دے آج تُو کی مچھلی ہوا کے پرندے گھریلو پرندے بنوں کے درندے ۱۷۶ سمندر