بیت بازی

by Other Authors

Page 165 of 871

بیت بازی — Page 165

165 ۷۴ ۷۵ ۷۶ ۷۸ و ۸۰ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ^2 ۸۸ ۸۹ 9° ۹۱ سونیا آج رخصت ہو گیا ہے نبھا کر عہد پیمان محمد تمہیں خدائے جہاں کی امان میں ہر خیر بخش دے تمہیں دونوں جہان میں رہے بلند ستاره نصیب کا سایہ رہے سروں پہ حفیظ و رقیب کا ہوتا سونپا ہے تمہیں خالق و مالک کی اماں میں سوئے ہو یہاں، آنکھ کھلے باغ جناں میں اس جس شاخ کا ہوں ثمر بڑا حق ہے جس کا میری ذات پر سلام ۹۲ کلام طاهر سنا ہے پیار وہ کرتا ہے غم کے ماروں سے تو ہم بھی درد کے قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں سو بسم اللہ جو گوئے دار سے چل کر سُوئے یار آئے سر آنکھوں پر ہر راہ خدا کا مُسافر ؛ سو سو بار آئے سب یادوں میں بہتر ہے وہ یاد؛ کہ کچھ لمحے جو اُس کے تصور کے قدموں میں گزار آئی سازندہ تھا یہ اس کے سب سا بھی تھے میت اُس کے دھن اس کی تھی گیت اُس کے لب اس کے، پیام اُس کا سب نبیوں میں افضل و اکرم صلى اللــــه عليــــه وســلــم سینے پہ غم کا طور لئے پھر رہا ہے کیا موسی پلیٹ! کہ وادی ایمن اُداس ہے سرمدی پریم کی آشاؤں کو دھیرے دھیرے مدھ بھرے سر میں مدھر گیت سنانے والے سُن رہا ہوں قدم مالک تقدیر کی چاپ آرہے ہیں میری بگڑی کے بنانے والے سکھلا دیئے اسلوب بہت صبر ورضا کے اب اور نہ لمبے کریں دن کرب و بلا کے سنیئے تو سہی! پگلا ہے دل پگلے کی باتیں ناراض بھی ہوتا ہے کوئی دل کو لگا کے ڈوبا؟ بحر ظلمات کی طغیانی میں؟ اک شب سب چاند ستارے ڈوب گئے نور ۹۳ سورج ہی نہیں جو تیرا ہے؛ لاکھ ہو میرا سادہ باتوں کا بھی ملا نہ جواب دھارے ڈوب گئے کے جو میرا بنے تو بات بنے سوالات؛ مظلمات بنے سود و زیاں سرور و غم روشنیوں کے زیر و بم اس بجھے تو یاس کے دیپ کی کو اُچھل پڑے بچے ساتھی بانٹ کے دُکھ مرائن من دھن اپنا بیٹھے سکھ کے ساتھی تھے ہی پرائے ؛ کون گیا، کون آیا ہے