بیت بازی

by Other Authors

Page 163 of 871

بیت بازی — Page 163

163 ۳۲ ۳۳ سب خشک ہوگئے ہیں؛ جتنے تھے باغ پہلے ہر طرف میں نے دیکھا؟ بستاں بُرا یہی ہے سچ ہے یہی کہ ایسے مذاہب ہی مر گئے اب ان میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گذر گئے سوچو! کہ باپ دادے تمہارے کدھر گئے کس نے بلا لیا وہ سبھی کیوں گزر گئے ۳۵ سو روگ کی دوا؛ یہی وصل بھی ہے اس قید میں ہر ایک گنہ سے رہائی ہے ۳۶ سب عضو سُست ہو گئے ، غفلت ہی چھا گئی قوت تمام نوک زباں میں ہی آگئی ۳۴ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۱ ۴۲ جد و جهد و سعی اکارت چلی گئی کوشش تھی جس قدر وہ بغارت چلی گئی سو لو عکس جلدی؛ کہ اب ہے ہراس مگر اس کی تصویر رہ جائے پاس ذوالجلال سنو مجھ سنو قصه قدرت سے اے لوگو! نانک کا حال سفر میں وہ رو رو کے کرتا دُعا کہ اے میرے گرتار! مشکل گشا ! سب جہاں چھان چکے، ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا سچ سچ کہو! کہ تم میں امانت ہے اب کہاں وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں ۲۳ سنو ! اب وقت توحید اتم ہے ستم اب مائل مُلک عدم ہے سر سے پا تک ہیں الہی ! ترے احساں مجھ پر مجھے فضل کا باراں تیرا پر غور کرکے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا؛ تو اُس یار سا نہیں ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ سورج برسا ہے سدا سب خیر ہے اسی میں؛ کہ اس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اسی کو یارو! بتوں میں وفا نہیں سینہ میں نقشِ حق جماتی دل غیر خدا اُٹھاتی اُٹھاتی ہے ہے سدا رہتا ہے ان روحوں کا محتاج انہیں سب کے سہارے پر کرے راج سچ پوچھیئے! تو قصوں کا کیا اعتبار ہے قصوں میں جھوٹ اور خطا بے شمار ہے سونے والو! جلد جاگو؛ یہ نہ وقت خواب ہے جو خبر دی وہی حق نے ؛ اس سے دل بیتاب ہے ا سخت دل کیسے ہوگئے ہیں لوگ سر پہ طائعوں ہے؛ پھر بھی غفلت ہے سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی ب پر پہ ب اک بلا ہے؟ کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے موڈت نہیں رہی ۵۲ ۵۳