بیت بازی

by Other Authors

Page 162 of 871

بیت بازی — Page 162

162 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ سر پہ اک سورج چمکتا ہے؛ مگر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں دن آب وہ؛ اور دَر پہ نہر خوشگوار سایہ بھی ہو جائے ہے اوقات ظلمت میں جدا پر رہا وہ ہر اندھیرے میں رفیق وغمگسار ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تئیسواں؛ دعویٰ پہ از روئے شمار سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کیلئے کر دئے اس نے تباہ؛ جیسے کہ ہو گرد و غبار سر کو پیٹو؛ آسماں سے اب کوئی آتا نہیں عمر دنیا سے بھی اب ہے آگیا ہفتم ہزار سب نشاں بیکار ان کے بغض کے آگے ہوئے ہو گیا تیر تعصب ان کے دل میں وار پار سوچو دُعاء فاتحہ کو پڑھ کے بار بار کرتی ہے یہ تمام حقیقت کو آشکار سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہمکو سہار سوچ لواے سوچنے والو! کہ اب بھی وقت ہے راہِ حرماں چھوڑ دو؛ رحمت کے ہو امید وار سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا کس کے فرماں سے میں مقصد پا گیا؛ اور تم ہو خوار سب پیاسوں سے نکوتر تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل اس سے ہے بریاں؛ پا گیا وہ آبشار سو چڑھے سورج نہیں بن روئے دلبر روشنی یہ جہاں بے وصل دلبر ہے؛ شب تاریک و تار سخت مائم کے وہ دن ہوں گے مصیبت کی گھڑی لیک وہ دن ہوں گے نیکوں کیلئے شیریں ثمار ہے حاصلِ اسلام تقویٰ خدا کا عشق ہے؛ اور جام تقویٰ ۲۲ ۲۳ سنو ! ۲۴ ۲۵ ۲۷ خالق مخلوق کو بہکاؤ ہے اس کو یاد کرو یونہی مخلوق سب کام تو بنائے؛ لڑکے بھی تجھ سے پائے سب کچھ تری عطا ہے؛ گھر سے تو کچھ نہ لائے ۲۶ شنو ! آتی ہے ہر طرف سے صدا کہ باطل ہے ہر چیز؛ حق کے سوا سُن میرے پیارے باری ! میری دعائیں ساری رحمت سے ان کو رکھنا؛ میں تیرے منہ کے واری سب پاک ہیں پیمبر؛ اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر؛ خیرالوریٰ یہی ہے ۲۹ سو سو نشاں دکھا کر؛ لاتا ہے وہ بلا کر مجھ کو جو اُس نے بھیجا؟ بس مدعا یہی ہے سب مشرکوں کے سر پر یہ دیں ہے ایک خنجر یہ شرک سے چھڑاوے؛ ان کو اذی یہی ہے سب دیں ہیں اک فسانہ؛ شرکوں کا آشیانہ اُس کا ہے جو یگانہ چہرہ نما یہی ہے ۲۸ ۳۰ ۳۱