بیت بازی — Page 157
157 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ زعم میں ان کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے؛ جسے ازخود ہی بنایا ہم نے درٌ عَدَن زخم جگر کو مرہم وصلت ملے گا کب ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے کب آئیں گے زندگی میری کٹے گی خدمت اسلام میں وقف کردوں گا خُدا کے نام پر جانِ حزیں زندگی ہو زنده باد جسے عزیز بہت وہ نہ مرنے کی دل میں ٹھہرائے کلام طاهر غلام احمد ؛ جا الحق و زهق الباطل ان الباطل كـــــــان زهــــوقـــــــا پڑ گیا جس کا دشمن جھوٹا زندگی میں نہ کثافت رہی کوئی، نہ جمود؛ ایسی موسیقی، جو اک آبی پرندے کی طرح ساری بے ربطگی ، موسیقی میں تحلیل ہوئی اپنے پر وسعتِ افلاک میں پھیلائے ہوئے جائیں نا تمام چلو! زندگی اس طرح تمام نہ ۱۸ زیر و بم میں دلوں کی دھڑکن کے ہو کام ره موجزن ہو خدا کا نام چلو ! کلام محمود زخم دل، زخم جگر بنتے ہیں کھیل کھیل کر کیوں حالت قوم پر آتا ہے؛ جو رونا ہم کو ؛ زر خالص سے بڑھ کر ؛ صاف ہونا چاہیے دل کو ذرا بھی کھوٹ ہو جس میں؛ مُسلماں ہو نہیں سکتا زباں نے اس کو پڑھ کر پائی برکت ہوئیں آنکھیں بھی اس سے؛ تور آگیں زباں مرہم بنے؟ پیاروں کے حق میں مگر اعداء کو کاٹے؛ مثل همشیر زرد ہے چہرہ، تو آنکھیں گھس گئیں حلقوں میں ہیں جسم میرا ہو گیا ہے خشک ہو کر؛ مثل خار زلزلوں سے؛ ہماری ہستی کی ہل گئی؟ سے پا تلک بنیاد زمانہ گزرا کہ دیکھیں نہیں وہ مست آنکھیں کہ جن کو دیکھ کے؛ میں ہو گیا تھا مستانہ ہے زبان میری تو رہتی ہے، اُن کے آگے گنگ نگاہ میری؛ نگاہوں سے اُن کی لڑتی زشت رو میں ہوں؛ آپ مالک حسن چھوڑئیے! دیجئے مجھے ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷