بیت بازی

by Other Authors

Page 130 of 871

بیت بازی — Page 130

130 ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ خُدا ہی تھا؟ کہ جس نے دی یہ نعمت محمد ہی تھے، جو خُدا کا نور چمکے ہر خلعت نظر میں ملک آئیں نظر چشم بشر میں خُوں رُلاتا تھا؛ لالہ زار کا رنگ مجلس یار کی بہار کا رنگ خواب غفلت میں پڑا سویا کروں گا کب تلک داور محشر جگا دے؛ ہاں جگا دے آج تو خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر فانوس ہی اندھا ہے؛ یا اندھے ہیں پروانے خاک کر دے؛ ملا دے مٹی میں پر میرے دل کو بے وفا نہ بنا خُدارا! اس کو رہنے دیں سلامت یہ دل مجھ کو دیا تھا؛ آپ ہی نے خود کام کو چوپٹ کر کے تم ؛ اللہ کے سر منڈھ دیتے ہو تم اپنے کاموں کو دیکھو؛ اور اس کی قضا کو رہنے دو خالی امید ہے فضول؛ سعی عمل بھی چاہیے ہاتھ بھی تو ہلائے جا؟ آس کو بھی بڑھائے جا حم کی طرف نگاہ کی ساقی نے جب کبھی میں نے بھی اُس کے سامنے پیمانہ کر دیا اُٹھائے یونہی احساں ناخُدا کے ۱۴۶ خُدا کی بات کوئی؛ بے سبب نہیں ہوتی نہیں ہے ساقی؛ تو ابر و بہار کیسے ہیں خطائیں کیں ، جفائیں کہیں ہر اک ناگر ڈنی کرلی کیا سب کچھ؛ مگر پیشانی پر اُن کے نہ بل آیا ۱۴۸ خاک کر دے گی کفر کا خاشاک دل سے نکلی نکلی ہے جو پھر اس میرے ۱۳۹ خورده گیری آسماں کی چھوڑ بھی ابن آدم! اپنی عریانی تو دیکھ ۱۵۰ خُدا کو دیکھ کر بھی تو کبھی خاموش رہتا ہے کبھی اس زشت رو کو دیکھ کر؛ آے واہ کہتا ہے جو گزری میرے دل پہ؛ دنیا پہ آئی ۱۳۵ خدا ۱۴۷ ۱۵۱ خدا ہی نے لگائی پار کشتی میرا بدلہ ہے لیتا ہمیشہ کہ ہیں وہ بھی معذور و مجبور ہم سے ۱۵۲ خُدا جانے ان کو ہے آزادی حاصل ۱۵۳ خُدا جانے دونوں میں کیا رس بھرا ہے ہم ان سے ہیں؛ اور وہ ہیں مخمور ہم سے ۱۵۴ خُدا کی نظر میں تو ہمیشہ ہو مشغول دل تیرا ذکر خُدا میں ۱۵۵ ۱۵۶ رہے یہ درجہ ملے گا؛ تو فقط ایثار و محنت سے خُدا کا قرب پائے گانہ راحت سے نہ غفلت سے خُدا سے پیار کر ، دل سے؛ اگر رہنا ہو عزت سے کہ ابراہیم کی عزت تھی سب مولیٰ کی خُلت سے