بیت بازی — Page 128
128 ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۸ ۹۹ 10۔1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ خبر لے اے مسیحا! درددل کی تیرے بیمار کا دَم گھٹ رہا ہے خُدایا! اک نظر اس تفتہ دل پر کہ یہ بھی تیرے در کا اک گدا ہے خزاں آتی نہیں؛ زخم زباں پر یہ رہتا آخری دم تک بُرا ہے خُدا کو اس سے مل کر ہم نے پایا وہی اک راہ دیں کا رہنما ہے خُدا کا قہر اب تم پر پڑے گا کہ ہونا تھا جو کچھ اب ہوچکا ہے ۹۷ خاک میں مل کر ملیں گے تجھ سے یارب ! ایک دِن درد جب حد سے بڑھے گا؛ تو دوا ہو جائے گا خُدارا! خواب میں ہی آکے اپنی شکل دکھلا دے بس اب تو صبر مجھ سے ؛ اے مری جاں ! ہو نہیں سکتا خدایا مد تیں گذریں؛ تڑپتے تیری فرقت میں ترے ملنے کا کیا کوئی بھی ساماں ہو نہیں سکتا ! خاک کے پتلے تو دنیا میں بہت دیکھے تھے پر کبھی ایسا نہ تھا؛ نُور کا پتلا دیکھا خالی ہے فرحت اور مسرت سے؛ کیا سبب رہتا ہے آبلہ کی طرح کیوں بھرا ہوا خُدا پر الزام بے وفائی یہ بات محمود پھر نہ کہیو ہوا تجھے بندۂ خُدا کیا! خُداخدا کر؛ خُدا خُدا کر خنجر ناز پہ ہم جان کو قرباں کردیں اور لوگوں کیلئے راستہ آساں کردیں ۱۰۴ خضر وسیح بھی نہ بچے جبکہ موت سے پھر زندگی کا اور کیسے اعتبار ہو خالق اسباب ہی جب ہو کسی پر خشمگیں پھر بھلا اس آدمی کا ساتھ دیں اسباب کیوں خوشی انہی کو ہے زیبا؛ جو صاحب دل ہیں جو دِل میں دب چکے ، پھر وہ ہنسیں ہنسا ئیں گے کب گرم کیا ہی کفر کا بازار ہے احساں کہ جس کو دیکھ کر ہوں سخت حیراں یہی بھولے ہوؤں کا رہنما ہے خُدا نے فضل کھلائے اس کے ہیں اثمار شیریں خضر بن جائیں اُن کے واسطے ہم جو ہیں بھولے ہوئے رستہ کے رہ گیر خُدا کے واسطے مسلم ! ذرا تو ہوش میں آ نہیں تو تیری رہے گی نہ آبرو باقی خُدا کی راہ میں دے؛ جس قدر بھی ممکن ہو کہ اُس کے فضل سے ہو؟ تیرے مال میں برکت ۱۰۵ ۱۰۶ 1۔2 خدمت اسلام سے دل سرد ہیں ۱۰۸ خُدا کا اس قدر ہے ہم خضر اس کے سوا کوئی نہیں 1+9 ۱۱۲ ۱۱۳ ޏ ہے اپنے ہمیں بھی