بیت بازی — Page 126
126 ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ خدا کا فضل خضر ہم تو اسی کو جانیں گے جو ہے؛ اس کی عطا ہمیں دلربا ملوائے محمد کے وسیلے ملا ہے ہے خوبیاں بھر دی تھیں مولیٰ نے دل داؤد میں خادمِ محمود پہنچا خدمت محمود میں خلیفہ خدا نے جو تم کو دیا ہے عطاء الہی ہے؛ فضل خدا ہے خلیفہ بھی ہے؛ اور موعود بھی خدا نے کہا مبارک بھی ہے؛ اور محمود بھی قرآن میں رہو اپنی ماؤں کے فرمان میں خدا کی گواہی یہ جب سے سے سُنی بہت قدر دل میں مرے بڑھ گئی ہے ہے آپ اپنی دلیل ہے احمد خلق میں آپ ہے مثال اپنی آپ کلام طاهر ختم ہوئے جب گل نبیوں کے دور نبوت کے افسانے بند ہوئے عرفان کے چشمے فیض کے ٹوٹ گئے پیمانے خوں شہیدانِ امت کا، اے گم نظر! ہر شہادت تیرے دیکھتے دیکھتے؛ رائیگاں کب گیا تھا، کہ اب جائے گا پھول پھل لائے گی، پھول پھل جائے گی ۶۴ خاک آلوده، پراگندہ زبوں حالوں کو کھینچ کر قدموں سے زانو پہ بٹھانے والے! ۶۳ ۶۵ ۶۶ ۶۷ ۶۸ خدا کے شیرو! تمہیں نہیں زیب؛ گرجتے آگے بڑھو ؛ کہ زیر نگیں کرو ہر مقام کہنا خوف جنگل کے باسیوں کا خوشاب اور ساہیوال اور فیصل آباد اور سرگودھا بلائے ناگہاں؛ اک نت نیا مولانا آتا ہے خوب بھی یادوں کی محفل ، مہمانوں نے تا پے ہاتھ ہم نے اپنا کوئلہ کوئلہ دل دہکایا ساری رات خیرات کر اب ان کی رہائی میرے آقا! کشکول میں بھر دے؛ جو مرے دل میں بھرا ہے خموشیوں میں کھنکنے لگی کسک دل کی اک ایسی ہوک دلِ بے نوا سے اُٹھی خانہ دل میں اتر کر یہ فقیروں کے سے غم نالۂ شب سے نصیب اپنا جگا لیتے ہیں ے خزانے تم پہ لٹائے گا لا جرم لیکن بس ایک نذر عقیدت گزار کر دیکھو لاج خدا کی بات ملے گی نہیں؛ تم ہو کیا چیز ! اٹل چٹان ہے؛ سر مار مار کر دیکھو ۶۹ ۷۰ ۷۲ ہے