بیت بازی

by Other Authors

Page 118 of 871

بیت بازی — Page 118

118 ۶۸ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22 <^ ۷۹ ۸۰ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۶ چھپی نہیں کبھی رہ سکتی وہ بنگہ ؛ جس نے ہے مجھ کوقتل کیا؟ لا اله الا اللہ چاہتا ہوں؛ کہ کروں چند نصائح تم کو تا کہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو چھوڑ دو حرص؛ کرو زُہد و قناعت پیدا ذر نہ محبوب ہے؛ سیم دل آرام نہ ہو چاک کردیجئے؟ ہیں بیچ میں جتنے یہ حجاب میری منظور اگر آپ کو دلداری ہے چاروں اطراف میں مجنوں ہی نظر آتے ہیں نہ ہوا ہو، وہ کہیں جلوہ نما؛ دیکھو تو چادر فضل و عنایت میں چھپالے پیارے! مجھ گنہ گار کو اپنا ہی بنالے پیارے! چاہیئے کوئی تو تقریب رحم کیلئے میں نے کیا لینا ہے؛ اے دوستو! اچھا ہوکر چین سے بیٹھتے، تو بیٹھتے کس طرح سے ہم دور بیٹھا نہ گیا؛ پاس بٹھایا نہ گیا چھانا کئے سب جہاں کو اُن کی خاطر جب دیکھا تو دیکھا اُن کو سوتے سوتے چھلگ رہا ہے میرے غم کا آج پیمانہ کسی کی یاد میں؛ میں ہو رہا ہوں دیوانہ چھڑائے گا بھلا کیا؟ دل سے میرے، یاد اُس کی تُو اور مجھ کو بناتا ہے اس کا دیوانہ چھٹ گیا ہاتھوں سے میرے؛ دامن صبر و شکیب چل گیا دل پر مرے؛ جادو تیری رفتار کا ۸۸ ۸۹ چھوڑنا ہے جو گس گمر؟ نقش عالم چال عشاق کی چلوں میں بھی چہرہ میرے حبیب کا بھی عزم مقبلانه انداز دلبرانه بنا ہے مہر نیم روز اس آفتاب کو نہ چھپایا کرے کوئی چھوڑ کر چل دئے میدان کو؛ دومانوں سے مرد بھی چھوڑتے ہیں دل کبھی؛ ان باتوں سے چھڑک دیا جو فضاؤں عفو کا پانی وہ کونسا تھا بدن؛ جو کہ آب آب نہ تھا تاج ہو جیسے بال ہیں ایسے چاند چمکا ہے؛ گال ہیں ایسے چھوٹے کبھی نہ جام سخاوت؛ خُدا کرے ٹوٹے کبھی نہ پائے صداقت؛ خُدا کرے ہے چلتے کاموں میں مدد دینے کو سب حاضر ہیں جب بگڑ جائیں؛ فقط ایک خُدا کرتا چھوٹوں کو حق نے کر کے دکھایا ہے سر بکند جو تھے ذلیل؛ قوم کے سردار ہوگئے چھ مارچ کو لیکھو نے اُٹھایا لنگر دنیا سے کیا گوچ؛ سُوئے نارِ سفر