بیت بازی — Page 96
96 96 ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ جو کچھ ہمیں ہے راحت؛ سب اس کی جودومنت اس سے ہے دل کو بیعت ؛ دل میں ہے اس کی عظمت کر جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا ی روز کر مبارک سبـحـــــان مــــن یـــرانــی جب تجھ سے دل لگایا؟ سوسو ہے غم اٹھایا تن خاک میں ملایا؛ جاں پر وبال آیا جی مت لگاؤ اس سے؛ دل کو چھڑاؤ اس سے رغبت ہٹاؤ اس سے؛ بس دُور جاؤ اس سے جس نے دل تجھ کو دیا؟ ہو گیا سب کچھ اس کا سب ثنا کرتے ہیں؛ جب ہووے ثناخواں تیرا جب تک عمل نہیں ہے؛ دل پاک وصاف سے کمتر نہیں یہ مشغلہ؛ بُت کے طواف سے جن کا یہ دیں نہیں ہے ، نہیں ان میں کچھ بھی دم دنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم جب اپنے پاس اک لڑکا بلایا تو دے چار جلدی سے ہنسایا جو دی ہے مجھ کو؛ وہ کس کو عطا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي جو مرتا ہے؛ وہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے؛ وہی مردے جلا دے جب آئیگا؛ تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا جس سوز میں ہیں اس کیلئے عاشقوں کے دل اتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں جامِ وصال دیتا ہے اس کو جو مر چکا کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ وشاب میں جن مورکھوں کو کاموں پر اس کے یقیں نہیں پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں جس کو دیکھو بدگمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا گر کوئی پوچھے تو سوسو عیب بتلانے کو جب کھل گئی سچائی؛ پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت؛ راہ حیا یہی ہے عقل و خرد یہی ہے فہم و ذکا یہی ہے جس آریہ کو دیکھیں؛ تہذیب سے ہے عاری کس کس کا نام لیویں؛ ہر سُو وبا یہی ہے جاں بھی اگرچہ دیویں ان کو بطور احساں عادت ہے ان کی کفراں؛ رنج و عنا یہی ہے جاں بھی ہے ان پہ قرباں گردل سے ہو یں صافی پس ایسے بدکنوں کا مجھ کو گلا یہی ہے جتنے نبی تھے آئے، موسی" ہو یا کہ عیسی مگار ہیں وہ سارے؛ ان کی ندا یہی ہے ۵۳ جس استری کو لڑکا پیدا نہ ہو پیا سے ویدوں کی رو سے اس پر واجب ہوا یہی ہے ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ جو ہو مفید، لینا؛ جو بد ہو، اس سے بچنا۔ہے