بیت بازی

by Other Authors

Page 95 of 871

بیت بازی — Page 95

95 کو چاہے؛ تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے؛ تخت سے نیچے گرادے کر کے خوار جس جس کے دعوی کی سراسر افترا پر ہے پنا اسکی یہ تائید ہو؟ پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار جو پوچھا کسی نے؛ چلے نے چلے ہو کدھر غرض کیا ہے؛ جس سے کیا یہ سفر پوشیدہ رکھنے کی تھی اک خطا جو کفارہ اس کا جسے دُور سے وہ نظر آتا تھا اسے ہے اے باوفا! چوله خود بھید سمجھاتا تھا جو عشاق اس ذات کے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ڈرڈر کے جاں کھوتے ہیں ۱۰ "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ جو ہوں دل سے قربانِ رَبِّ جو برباد جلیل ہونا کرے اختیار نہ نقصاں اٹھاویں؛ نہ ہوویں ذلیل خدا کیلئے ہے وہی بختیار جو اس کیلئے کھوتے ہیں؛ پاتے ہیں جو مرتے ہیں؛ وہ زندہ ہو جاتے ہیں جب نظر پڑتی ہے اس چولہ کے ہر ہر لفظ پر سامنے آنکھوں کے آجاتا ہے وہ فرخ گہر جسے اس کے مت کی نہ ہووے خبر دیکھے اسی چولہ کو اک نظر دیکھے اسے چھوڑ کر کام و کاج وہ تکے جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج وہ جو دیکھا کہ لگا ہونے دل اس کا اوپر کہیں انجیل میں تو وکھلاؤ ان اس یار کی نظر ہی نہیں یہ ہیں سڑے اور گلے جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں ۲۴ جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں ۲۶ ۲۷ ۲۵ جس کا ہے نام قادر اکبر اس کی ہستی سے دی ہے پختہ خبر جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں کیا کیا نہ ان کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں جل رہے ہیں یہ بھی بغضوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی؛ وجود اپنا ملایا ہم نے خدا جانے کیا کیا بناتے رہے ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ لکھتے لکھاتے رہے جو نانک کی مدح و ثناء کرتے تھے ہر شخص کو وہ کہا کرتے تھے