بیت بازی — Page 854
854 ۴۳ ممکن نہیں ہے؛ کہ خالی پھرے وہ ترے در بندہ جو کوئی صدادے مم میری آہ کا اثر تو نہیں عرش کے پل رہے ہیں کیوں پائے ۴۵ یہی مد نظر تھا ایک مقصد برائے دین احمد جانفشانی ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ مولا کا اک خاص احسان ہے وجود اس کا خود اس کی بُرہان ہے فرمان ربی ہے کیوں؟ اسلئے کہ اس نے سہے دکھ تمہارے لئے یارب! ہمارے شاہ کی بستی اداس ہے اس تخت گاہ کے راج دلارے کب آئیں گے کلام طاهر یاد آئی یہ نہ ہو روتے ہی رہ جائیں ترے در کے فقیر اور ہنس ہنس کے روانہ ہوں؛ رُلانے والے جب اُن کی گھٹا کی طرح بجلیاں دل پہ کڑکیں بلا کی طرح؛ ذکر ان کا چلا ئم ہوا کی طرح رت بنی خوب آہ و فغاں کیلئے شب و روز عشق , ماه و سال تمام پیمانه صفات بنے؟ و وفا کے کھیت؛ موسم بدلیں گے، رُت آئے گی؟ پیار رضا کے خوشوں سے لد جائیں گے ساجن کے درسوں کی یہ بات نہیں وعدوں کے لیے لیکھوں کی تم دیکھو گے ہم آئیں گے جھوٹی نکلے گی؛لاف خدانائرسوں کی یہی راہیں، کبھی سکھر، کبھی سکرنڈ جاتی ہیں انہی پر پنوں عاقل، وارہ اور لڑکا نہ آتا ہے یہ کیا انداز ہیں؟ کیسے چکن ہیں، کیسی رسمیں ہیں انہیں تو ہر طریق نامسلمانانہ آتا ہے یہ دل نے رکس کو یاد کیا؛ سپنوں میں یہ کون آیا ہے جس سے سپنے جاگ اٹھے ہیں ؛ خوابوں نے نور کمایا ہے یہ کون ستارہ ٹوٹا ، جس سے سب تارے بے نور ہوئے کس چندر مانے ڈوب کے اتنے چاندوں کو گہنایا ہے یہ کس نے میرے درد کو جینے کی طلب دی دل کس کیلئے عمر خضر مانگ رہا ہے یہ کائنات ازل سے نہ جانے یعنی بار خلا میں ڈوب چکی ہے؛ خلا سے اُٹھی ہے یہ خبر ہے گرم یارب! که سوار خواهد آمد کروں نقدِ جاں نچھاور؛ میرے دار تک تو پہنچے یہ تیرے کام ہیں مولا! مجھے دے صبر و ثبات ہے وہی راہ کٹھن؛ بوجھ بھی بھارے ہیں وہی