بیت بازی

by Other Authors

Page 849 of 871

بیت بازی — Page 849

849 ہندوستاں میں چاروں طرف ریل جاری کی ان کا ہی کام ہے یہ؛ یہ اُن کی ہی شان ہے ہر اک دشمن بھی اب رطب اللساں ہے میرے احمد کی وہ شیریں زباں ہے ۸۰ Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ہمارے حال پر ہنستی ہے گو قوم ہمیں پر اُس رونا آ رہا ہے و صفا ہے ہمارے انبیاء کو گالیاں ہے ہوئے ہیں لوگ دشمن امر حق کے اسی کا نام کیا صدق رو پھر اس کے ساتھ دعوی صلح کا ۸۵ ہماری صلح تم سے ہوگی کیونکر تمھارے دل میں جب یہ کچھ بھرا ہے ۸۶ AL وہ ہو اُس کے نام پر قربان سب کچھ کہ شاہنشہ ہر دوسرا ہے ہمیں حاصل ہے اس سے دید جاناں که قرآن مظهر شان خُدا سب ہو ہے مدعا کی غرض ہر ہمارے کام تیرے لیئے ہوں اطاعت ہوئی ہے بے سبب کیوں عاشقوں کی جان کی دشمن نسیم صبح اُن کے مُنہ سے کیوں آنچل اُٹھاتی ہے ہمارا امتحاں لے کر تمھیں کیا فائدہ ہوگا ہماری جان تو بے امتحاں ہی نکلی جاتی ہے ہماری خاک تک بھی اُڑ چکی ہے اُس کے رستہ میں ہلاکت ! تو بھلا کس بات سے ہم کو ڈراتی ہے ہے وہ صیاد؛ جسے صید سمجھ بیٹھے ہیں ان کی عقلوں سے یہ پردہ تو اُٹھائے کوئی ہم ہیں تیار؛ بتانے کو کمال قرآں خوبیاں وید کی بھی ہم کو بتائے کوئی ہے پارہ پارہ چادر تقوی مسلماں کی تیرے ہاتھوں سے ہوسکتی تھی مولیٰ ! گر رفو ہوتی ہو نہ تجھ کو بھی خوشی دونوں جہانوں میں نصیب گوچہ یار کے رستہ کے کھلانے والے ہم تو ہیں صبح و مسا رنج اُٹھانے والے کوئی ہوں گے؛ کہ جو ہیں عیش منانے والے ہجر کی آگ ہی کیا گم ہے جلانے کو مرے غیر سے مل کے؛ مِرادِل نہ دُکھائے کوئی ہو کے کنگال جو عاشق ہو رُخ سُلطاں پر حوصلے دل کے وہ پھر کیسے نکالے؛ پیارے! ہم کو اک گھونٹ ہی دے صدقہ میں میخانہ کے پی گئے لوگ مئے وصل کے پیالے؛ پیارے! ہوئی ہے دل سوختہ کی بھاپ طبیب تو نہ سمجھا بخار رہتا ہے ہمارے بیکسوں کا آپ کے دن کون ہے پیارے نظر آتے ہیں مارے غم کے ؛ اب تو دن کو بھی تارے ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1۔۔1+1