بیت بازی

by Other Authors

Page 848 of 871

بیت بازی — Page 848

848 ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ہم جیسوں کے بھی دید کے سامان ہوگئے ظاہر ہوا تھا حُسنِ ازل؛ آپ کیلئے ہماری خاک پا کو بھی؛ عدو کیا خاک پائے گا ہمیں رُکنا نہیں آتا؟ اُسے چلنا نہ آتا ہے ہر روز نئے فکر ہیں؛ ہر شب ہیں نئے غم یارب! یہ مرا دل ہے؛ کہ مہمان سرا ہے ہیں رکس کے بدن دیس میں پابند سلاسل پردیس میں اک روح گرفتار بلا ہزار خاک آدم اُٹھے؛ مگر بخدا شبیہہ وہ! جو تری خاک پا سے اُٹھی ہے ہے عوام کے گناہوں کا بھی بوجھ اس پہ بھاری یہ خبر کسی طریقے سے؛ حمارتک تو پہنچے ہے حسن میں خوغم کے شراروں کے سہارے اک چاند معلق ہے؛ ستاروں کے سہارے ہر ستم گر کو ہو اے کاش! یہ عرفان نصیب ظلم جس پر بھی ہو؟ ہر دین کی رُسوائی ہیں لوگ وہ بھی چاہتے ہیں دولتِ جہاں ملے زمیں ملے، مکاں ملے، سکونِ قلب وجاں ملے ہے زندہ قوم وہ؛ نہ جس میں ضعف کا نشاں ملے کہ پیر پیر، طفل طفل؛ جس کا نوجواں ملے کلام محمود ہند میں ریل اُنھوں نے ہی تو جاری کی ہے ہے ہاں ہاں! نگاه رحم ذرا، اس طرف بھی ہو بحر گنہ میں ڈوب رہا ہوں؛ بچا مجھے ہر طرف شور وفغاں کی ہی صدا آتی تھی سخت سے سخت دلوں کو بھی جو تڑپاتی تھی ہند کی ڈوبی ہوئی کشتی؛ ترائی اُس نے ملک کی بگڑی ہوئی بات بنائی اُس نے ہے آمد و رفت میں جس سے بہت آسانی ہمیشہ کیلئے ان پر ہوں یارب! برکتیں تیری دُعا کرتا ہوں یہ مجھ سے خدایا! سُن دُعا میری ۷۵ ہمیں ہے اسی وقت ہادی کی حاجت یہی وقت ایک رہنما چاہتا ہے ہر اک دشمن دیں کو ہے وہ بلاتا کہ آؤ! اگر تم میں کچھ بھی حیا ہے ہر اک مخالف کے زور طاقت کو توڑنے کا یہی ہے حربہ یہی ہے تلوار ؛ جس سے ہر ایک دیں کا بد خواہ کا نپتا ہے ہے چاند سورج نے دی گواہی؛ بچائے ایسے سے پھر خُدا ہی؛ ہے طاعون کی تباہی جو اب بھی انکار کر رہا ہے 9 ہندوستاں میں ایسا کیا ہے اُنہوں نے عدل ہر شورہ پشت جس سے ہوا نیم جان ہے ۷۶ 22 ZA پڑی