بیت بازی

by Other Authors

Page 736 of 871

بیت بازی — Page 736

736 ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 24 ؛ اس عشق میں؟ مصائب سوسو میں ہر قدم میں پر کیا کروں؟ کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے اس رہ میں اپنے قصے ؛ تم کو میں کیا سناؤں دکھ درد کے ہیں جھگڑے؛ سب ماجرا یہی ہے اے میرے یار جانی! کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ لن ترانی تجھ سے رجا یہی ہے اے میرے دل کے درماں! ہجراں ہے تیرا سوزاں کہتے ہیں جس کو دوزخ؛ وہ جاں گزا یہی ہے اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینے پر دشمنوں کے؛ پھر پڑا یہی ہے ایسا زمانہ آیا جس نے غضب ہے ڈھایا جو پیستی ہے دیں کو؛ وہ آسیا یہی ہے آنکھیں ہر ایک دیں کی ؟ بے نور ہم نے پائیں سرمہ سے معرفت کے؛ اک سرمہ سا یہی ہے انکار کر کے اس سے پچھتاؤ گے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا؛ وہ کیمیا یہی ہے اے آریو! یہ کیا ہے؛ کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑو؛ راہِ حیا یہی ہے اچھا نہیں ستانا؛ پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا؛ اس کی جزا یہی ہے ڈر نہیں تو پھر کیوں ظن بد سے شئے نہیں اس نے بنائی تو بس پھر ہوچکی اس سے 22 وے ۸۰ ΔΙ ۸۲ اگر دل میں تمہارے شر نہیں اگر سب ہے ہے خدائی ۷۸ اگر اس محل کو طالب لگائے تو اک دن ہو رہے برتھا نہ جائے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے ؛ بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو؛ اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے ایسا گماں خطا ہے؛ کہ وہ ذات پاک ہے ایسے گماں کی نوبت آخر ہلاک ہے اے سونے والو جاگو! کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آ کے در پہ ہمارے؛ وہ یار ہے اک دن وہی مقام؛ تمہارا مقام ہے اک دن یہ صبح زندگی کی؛ تم پہ شام ہے اک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے پھر دفن کر کے گھر میں تاسف سے آئیں گے اس بے نشاں کی چہرہ نمائی؛ نشاں سے ہے سچ ہے؛ کہ سب ثبوتِ خدائی نشاں سے ہے اک سیل چل رہا ہے گناہوں کا زور سے سنتے نہیں ہیں کچھ بھی؛ معاصی کے شور سے اس کا سبب یہی ہے کہ غفلت ہی چھا گئی دنیائے دوں کی؛ دل میں محبت سما گئی اس ذات پاک سے؛ جو کوئی دل لگاتا ہے آخر وہ اس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶