بیت بازی — Page 690
690 دکھ اتنے دیئے، میں نہ سکا سه یوں زیست کا رشتہ ٹوٹ گیا کئے ظالم دل؛ پچھتاتا ہے، پچھتانے دو کلام محمودی دل میں ہوسوز ؛ تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہو مغز؛ فقط نام نہ ہو در دالفت میں؛ مزہ آتا ہے ایسا ہم کو کہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلا ہم کو دشمن دین درندوں سے ہیں بڑھ کر خُونخوار چھوڑ یو مت؛ میرے مولیٰ! کبھی تنہا ہم کو دیکھ کر حالت دیں؛ خُونِ جگر کھاتے ہیں مر ہی جائیں؛ جو نہ ہو تیرا سہارا ہم کو دل میں آپ کے تیری یاد نے ؛ اے ربّ وَدُود! بارہا پہروں تلگ؛ خُون رُلایا ہم کو دکھلاؤ پھر صحابہ سا جوش و خروش تم دنیا اپنی قوت بازو عیاں کرو دل پھر مُخالِفانِ محمدؐ کے توڑ دو پھر دشمنان دین کو تم بے زباں کرو جلوہ گناں؛ میرا یار ہو دل چاہتا ہے؛ طور کا وہ لالہ زار ہو اور آسماں دُنیا کے عیش؛ اس پہ سراسر ہیں پھر حرام پہلو میں جس کے؛ ایک دل بے قرار ہو یک بیضا بنو؛ موسی کا عصا ہو جاؤ صبر دم عیسی سے بھی بڑھ کر ہو دُعاؤں میں اثر دل ہی نہ رہا ہو جس کے بس میں سے شرمسار کیوں ہو دولہا نہ رہا ہو جب دلہن کا بیچاری کا پھر سنگار کیوں ہو دشمنی ہو محبان محمد تمہیں جو مُعائِد ہیں؛ تمھیں اُن سے کوئی کام نہ نہ ہو درد کا میرے تو؛ اے جان! فقط تم ہو علاج چاره کار بھی ہو؟ محرم اسرار بھی ہو دل میں اک درد ہے پر رکس سے کہوں میں جا کر کوئی دُنیا میں مرامونس و غم خوار بھی ہو دوستو! رحم کرو کھول دو زنجیروں کو کے جنگل میں مجھے دل ذرا بہلانے دو دوستو! سمجھو تو ہے زندگی اس موت کا نام یار کی راہ میں اب تم مجھے مر جانے دو دل کی دل جانے ؛ مجھے کام نہیں کچھ اس سے اپنی ڈالی ہوئی تھی؛ اُسے سلجھانے دو دشمن کو ظلم کی بُرچھی سے ، تم سینہ و دل بر مانے دو یہ دردر ہے گائن کے دوا؛ تم صبر کرو، وقت آنے دو ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶