بیت بازی

by Other Authors

Page 650 of 871

بیت بازی — Page 650

650 ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ پر کبر ونخوت سے خُدارا! باز آؤ تم؛ کہ اب جلد آنے والے ہیں؛ وہ آگ بھڑ کانے کے دن رکس لیے خوش ہے ؛ یہ تجھ کو بات ہاتھ آئی ہے کیا یہ نہ خوش ہونے کے دن ہیں؛ بلکہ تھر انے کے دن کچھ بھی گر عقل و خرد سے کام تو لیتا؟ تو یہ دیں میں جو ہیں بل پڑے؛ ہیں اُن کو سلجھانے کے دن کیوں ہو رہا ہے محرم و خوش آج گل جہاں کیوں ہر دیار و شہر ہوا رشک بوستاں کریں کیونکر نہ تیرا شکر ؛ یارب! کہ تو نے لے لیا ہم کو اماں میں کہاں ہے لالہ و گل میں وہ ملتی جو خوبی ہے؛ میرے اس دلستاں میں کلام پاک بھی موجود ہے؛ اسے پڑھ لے ہمارا تجھ کو جو؛ اے قوم! اعتبار نہیں کبھی تو دل پہ بھی جاکر اثر کرے گی بات سُنائے جائیں گے ہم؛ تم کہو ہزار نہیں کروڑ جاں ہو؛ تو کردُوں فدا محمد کہ اس کے لطف و عنایات کا شمار نہیں کرم خاکی ہوں؛ نہیں رکھتا کوئی پروا میری دشمنوں پر میں گراں ہوں؛ دوستوں پر بار ہوں کچھ نہیں حالِ کلیسا و صنم خانہ کا علم نشہ جام مئے وحدت میں؛ میں سرشار ہوں کیا کروں جا کر حرم میں ، مجھ کو ہے تیری تلاش دار کا طالب نہیں ہوں؛ طالب دیدار ہوں کوشاں حصول مطلب دل میں ہوں اس قدر کہتا ہوں تم کو سیچ؛ ہمہ تن التجا ہوں میں کچھ اپنے تن کا فکر ہے مجھ کو؛ نہ جان کا وین محمدی کیلئے کر رہا ہوں میں کہتا ہوں سچ ؛ کہ فکر میں تیری ہی غرق ہوں اے قوم سُن ! کہ تیرے لیے مر رہا ہوں میں ریخ یار کو عریاں کردیں وہ ہمیں کرتے ہیں؟ ہم ان کو پریشاں کردیں کوچہ یار سے ہے مجھ کو نکلنا دوبھر کیا تجھے وعدہ تِرا لغزش پا یاد نہیں کون دے دل کو تسلی؛ ہر گھڑی اب اڑے وقتوں میں؛ آڑے آئے کون حضرت باری سے آب ملوائے کون کون دنیا سے کرے ظلمت کو دُور راہ پر بھولے ہوؤں کو لائے کون کون میرے واسطے زاری کرے درگہ ربی میں؛ میرا جائے کون گل نہیں پڑتی اسے؛ اُس کے ہوا اس دل غمگیں کو اب سمجھائے کون ۵۳ ۵۴ ۵۶ لا ۵۸ ۵۹ ۶۰ کھینچ کر کون پرده دکھلائے ہمیں راہ ھدی