بیت بازی

by Other Authors

Page 623 of 871

بیت بازی — Page 623

623 دین جاری دنیا میں بیداری والے؛ جب اس کے پیچھے پڑتے ہیں؟ غافل سوتے ہیں تو اس کو بالکل کھوتے ہیں کاروبار جہاں ؛ دن کاموں میں گٹ جاتا ہے؟ پر دل میں خیال یار نہاں راتوں کو اُٹھ کر روتے ہیں جسم اطہر کے قریں مرغانِ بسمل کی تڑپ ہو رہی تھی روح اقدس داخل خلدِ بریں جس طرف دیکھا؟ یہی حالت تھی ہر شیدائی کی سر به سینه چشم باراں؛ پشت خم اندوہ گیں جو مجھے چاہتے تھے؛ چاہ کو پہچانتے تھے ان کی فرقت کی وہ تنویر کہاں سے لاؤں؟ جاتا ہے وقت ہاتھ سے؛ دن گزرے جاتے ہیں عیسی نہ آج آتے ہیں؛ نہ کل ہی آتے ہیں کلام طاهر جس سے وادیوں میں ہر طرف ہر گھڑی ہوں تجھے بہہ رہی ہے رود بار حسن سبز پوش گل نگار ثار؛ حُسن جب دہریت کے دم سے؛ مسموم تھیں فضائیں پھوٹی تھیں جابجا جب الحاد کی وبائیں جیتیں گے ملائک؛ اے دیس ނ آنے والے بتا! خائب و خاسر ہوگا ہر شیطانِ وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن جائیں جائیں ہم روٹھ گئے؟ جب ہم خوابوں کی باتیں ہیں؟ آکر پیار جتائے ہیں جو آنکھیں مند گئیں اور گھل رو رو کر؛ گھل کے جو چراغ بجھے ہم یادوں کے سائے ہیں اب اُن کی پچھلی یادوں میں؟ کیا بیٹھے نیر بہائے ہیں جو صبح کا تکتے تکتے ؛ ހހ اب اُن کے بعد آپ اُن کیلئے؛ اندھیاروں میں خواب ہوئے کیا خاک سویرے لائے ہیں ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ جسم اُس کا ہے؛ سب انداز مگر غیر کے ہیں آنکھ اس کی ہے؛ پر اطوار نظر غیر کے ہیں ۳۵ جو غیر احمدی سندھی ہیں؛ ملاؤں کے ڈر سے وہ چھپ کے احمدی گوٹھوں میں چل کے دیکھتے ہیں