بیت بازی

by Other Authors

Page 609 of 871

بیت بازی — Page 609

609 ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ᎪᎵ اے مسیحا! ہم سے گو تو چھٹ گیا دل سے پر اُلفت تیری؛ چھڑوائے کون اُسے ہے قوم کا غم ؛ اور میں دنیا سے بچتا ہوں میں اب اس دل کے ہاتھوں سے بہت مجبور رہتا ہوں اُسی کے جلوہ ہائے مختلف پر مرتے ہیں عاشق وہی گل میں، ہی مل میں ؛و ہی ہے شمع محفل میں ؤ اس میں ہوتی ہے مجھے دید رخ جاناں نصیب میری بیداری سے بڑھ کر ہو نہ میرا خواب کیوں کیوں نہ گھبراؤں نہ کھاؤں دل میں پیچ و تاب کیوں مشکل کو آساں منائیں تاکہ مل کر روز آمیں مُستَقِيم امت احمد نے چھوڑی ہے صراط اسی میں مُردہ دل کی زندگی یہی کرتا اکٹھے ہو اکٹھے ہے رہے ہیں آج احباب ۸۵ الہی! نور تیرا ΛΥ ہے ہر جاگزیں ہو زباں میں، سینہ میں؛ دِل میں، وہاں میں اہلِ دنیا کی نظر میں ؛ خواب غفلت میں ہوں میں اہلِ دل پر جانتے ہیں یہ کہ بیداروں میں ہوں اے بُھو! اب جستجو اُس کی ہے امید محال لے چکا ہے دل میرا تو دلر بائے قادیاں ۸۸ آہ! کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بائیلِ مرام باندھیں گے رختِ سفر کو ہم؛ برائے قادیاں ۸۹ الفاظ تو پڑھ لیے ہیں سارے اب باقی ہے؛ مطلب اور عرفاں 90 میری دعا ہے الله ۹۱ آنکھوں میں حیا چمک رہی ہو ان کو بھی کرے وہ اس پہ آساں۔آمین منه حکمت و علم سے دُرافشاں۔آمین ۹۲ امین کہیں میری دعا بیٹھے ہیں تمام لوگ جو یاں۔آمین ۹۳ ۹۴ آنکھیں پرنم ہیں ، جگر ٹکڑے ہے، سینہ ہے چاک یاد میں تیری تڑپتا دلِ مضطر ہی نہیں از بس کہ انفعال سے دل آب آب تھا آنکھوں سے بہہ گیا؛ مرا نورِ نظر کہاں ۹۵ اے دل! اُسی کے در پہ بکس اب جا کے بیٹھ جا مارا پھروں گا ساتھ تیرے؛ دربدر کہاں الہی! دُور ہوں ان کی بلائیں پڑیں دشمن ہی اس کی جفائیں الہی! تیز ہوں ان کی نگاہیں ان کی نگاہیں نظر آئیں سبھی تقویٰ کی راہیں ۹۸ اُن کی رفتار کی دلا کر یاد دل میرا چٹکیوں میں ملتی تھیں اے دوست! تیرا عشق ہی کچھ خام ہو؛ تو ہو تو نہیں کہ یار ترا مہرباں نہیں ۹۶ ۹۷ ۹۹