بیت بازی — Page 507
507 ۷ Δ گلشن احمد بنا ہے وم ودُرّ ثمين گالیاں سُن کر، دُعا دو، پاکے دکھ، آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو؛ تم دکھاؤ انکسار گر کرو تو بہ؛ تو اب بھی خیر ہے، کچھ غم نہیں تم تو خود بنتے ہو قہر ذوالیمین کے خواستگار گرو نے چولہ بنایا شعار دکھایا کہ اس رہ پہ ہوں میں نثار گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو وہ دل سنگیں؛ جو ہووے مثل سنگ کوہسار ه گر نہ ہوتی بد گمانی کفر بھی ہوتا فنا اس کا ہووے ستیاناس؛ اس سے بگڑے ہوشیار مسکن بادِ صبا بادِ صبا جس کی تحریکوں سے سنتا ہے بشر گفتار یار گر حیا ہو؛ سوچ کر دیکھیں، کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں؛ پا رہا ہوں میں وقار گر یہی دیں ہے؟ جو ہے ان کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اک یہی دیں کیلئے ہے جائے عزّ وافتخار گر نہ ہو تیری عنایت؛ سب عبادت بیچ ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کا انحصار گر یہی اسلام ہے؛ بس ہوگئی اُمت ہلاک کس طرح رہ مل سکے ، جب دیں ہی ہو تاریک و تار گردنوں پر ان کی ہے سب عام لوگوں کا گنہ جن کے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں غبار گر گماں صحت کا ہو؛ پھر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کیلئے فرقاں پہ کر سکتے ہو وار گو وہ کافر کہہ کے؛ ہم سے دُور تر ہیں جا پڑے ان کے غم میں؛ ہم تو پھر بھی ہیں حزین و دلفگار ۱۵ گر کہے کوئی؟ کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش وہ خدا سے پوچھ لے؛ میرا نہیں یہ کاروبار ودر عدد ۱۰ ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۶ ۱۷ ۱۸ گلشن حضرت احمد میں چلی بادِ بہار ابر رحمت سے برسنے لگے پیہم انوار کلام محمود تقصیر گناہوں سے بچالے ہم کو یارب! نہ ہونے پائے کوئی ہم سے گالیاں دیں گے تمھیں؛ کافر بتائیں گے تمھیں جس طرح ہوگا؛ کریں گے وہ تمھیں رُسواو خوار