بیت بازی

by Other Authors

Page 466 of 871

بیت بازی — Page 466

466 Y ۹ ۱۱ در ثمین اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق؛ تا وہ کچھ کریں سوچ اور بچار اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو! کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ھے خبر فرقاں میں؛ رحماں بار بار اک زمانہ تھا؛ کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی نہاں؛ ایسی کہ گویا زیر غار ایک دم میں غم کدے ہو جائیں گے عشرت کدے شادیاں کرتے تھے جو؛ پیٹیں گے ہو کر سوگوار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی ، نہیں اُن کا شمار اُتار اپنے مونڈھوں سے دنیا کا بار طلب میں سفر کر لیا اختیار اس زمانے میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر جو کہ اب پوری ہوئی؛ بعد از مرور روزگار اس زمانے میں ذرا سوچو! کہ میں کیا چیز تھا جس زمانے میں؛ براہیں کا دیا تھا اشتہار اے خدا! اے کارساز و عیب پوش و کردگار! اے میرے پیارے مرے محسن میرے پروردگار ! آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار اب اسی گلشن میں لوگو! راحت وآرام ہے وقت ہے؛ جلد آؤ! اے آوارگان دشت خار ۱۲ اسمعو اصوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمیــ آمـــد امـــام کــــامــگــــار ۱۳ آسماں میرے لئے؛ تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ؛ ہوئے میرے لئے تاریک و تار آسماں پر دعوت حق کیلئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر؛ فرشتوں کا اُتار ۱۴ ۱۶ ۱۷ ۱۵ آسمان بارد نشان الوقت می گوئد زمیں این دو شاهد از پئے من نعرہ زن چوں بے قرار ابتداء سے تیرے ہی سائے میں ؛ میرے دن کٹے گود میں تیری رہا؛ میں مثل طفلِ شیر خوار اسقدر ظاہر ہوئے ہیں، فضل حق سے معجزات دیکھنے سے جن کے؛ شیطاں بھی ہوا ہے دلفگار آرہا ہے اس طرف؛ احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی؛ مُردوں کی ناگہ زندہ وار آ رہی ہے اب تو خوشبو ؛ میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار ایک عائم مرگیا ہے؟ تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولی ! اس طرف دریا کی دھار اس پہ بھی میرے خدا نے یاد کر کے اپنا قول مربع عالم بنایا مجھ کو؛ اور دیں کامگار ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱