بیت بازی

by Other Authors

Page 295 of 871

بیت بازی — Page 295

295 وہ چهره ہر روز ہیں دکھاتے؛ وہ ہم ہی آفت زده ہیں؛ رقیب کو تو چھپا چھپا کر جن سے چھپاتے ہیں منہ دکھا دکھا کر وہ شجر ہیں؛ سنگ باروں کو بھی جو دیتے ہیں پھل ساری دنیا سے نرالا؛ ان کا ہوتا ہے جواب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اُمید لگائے بیٹھے ہوں وہ ادنی ادنی خواہش کو مقصود بنائے بیٹھے ہوں پر؛ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیروں کی طرح غراتے ہوں ادنی سا قصور اگر دیکھیں ، تو منہ میں گف بھر لاتے ہوں وہ دن کہ جب آئے گی مصیبت آنکھوں میں ہماری گھومتا تمہارے آئے گا وہ آگے جو کیا ہے ورنہ ابھی غافلو ! ہے وہ مطلع آبدار لکھوں کہ جس سے حستاد کا ہو دل خوں حروف کی جا گہر پروؤں کہ مجھ کو کرنا یہی روا ہے وہ لوگ جو کہ راہ سے بے راہ تھے ہوئے کیوں ان کے چہروں پر ہے؛ خوشی کا اثر عیاں وہ قوت اعجاز ہے؛ اس شخص نے پائی دم بھر میں اُسے مار گرایا؛ جسے تاکا وہ شاہ جہاں؛ جس کیلئے چشم برہ ہو وہ قادیاں میں بیٹھا ہے؛ محبوب خدا کا وحشی کو بھی دم بھر میں؛ مہذب ہے بناتی دیکھو تو اثر، آکے ذرا؛ اس کی دعا کا ورنہ صدموں نے تو تھا؛ جان سے مارا ہم کو آگے مشکل تھا بہت کرنا گزارا ہم کو ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۸۹ ۲۹۰ ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۳ ۲۹۴ ۲۹۵ ۲۹۶