بیت بازی

by Other Authors

Page 221 of 871

بیت بازی — Page 221

221 ۳۹۱ ۳۹۲ ۳۹۳ ۳۹۵ ۳۹۷ ۳۹۸ کچھ اس میں کشش ہی ایسی ہے؟ دل ہاتھ نکلا جاتا ہے ورنہ میں اپنی جان سے؛ کچھ ایسا بھی تو بیزار نہیں کیا اس سے بڑھ کر راحت ہے؛ جان کا جاں نکلے تیرے ہاتھوں میں لینے والا بین؛ مجھ کو تو کوئی انکار نہیں کبھی سے خانہ خمار کا کھلا ہے در جو چکے بیٹھے ہیں وہ بادہ خوار کیسے ہیں ہیں کوئی ملتا نہیں دنیا کو رہبر نگاہیں آکے مجھے پر ہی نیکی رکس زور سے کعبہ میں کہی تم نے مری جاں! اک گونجتی تکبیر جو مٹتے نہیں ملتی ۳۹۴ گن کہہ کے نیا باب؛ بلاغت کا ہے کھولا ہے چھوٹی سی تقریر جو مٹتے نہیں ملتی کیا ہوا ہاتھ سے اسلام کے نکلی جو زمیں دل پر وہ اُس کی حکومت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ٣۹۶ کفر نے تیرے گرانے کے کئے لاکھ جتن تیری وہ شان ، وہ شوکت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں کوچه دلبر کے رستہ سے ہے دنیا بے خبر پوچھنا ہو آپ نے گر؛ تو ہمیں سے پوچھیئے کس قدر تو بائیں توڑی ہیں یہ ہے دل کو خبر کس قدر پونچھے ہیں آنسو؛ آستیں سے پوچھیئے کس قدر صدمے اُٹھائے ہیں ہمارے واسطے پاک رحمـة لـلـعـالـمیـں سے پوچھیے کفر کے چشمے سے کیا نسبت اسے میرے چشمہ کا ذرا پانی تو دیکھ ۲۰۱ کیا آپ ہی کو نیزہ چھونا نہیں آتا؟ یا مجھ کو ہی تکلیف میں رونا نہیں آتا کہتے ہیں کہ مٹ جاتا ہے دھونے سے ہر اک داغ اے وائے! مجھے داغ کا دھونا نہیں آتا کیا فائدہ اس در پہ تجھے جانے کا اے دل! دامن کو جو اشکوں سے بھگونا نہیں آتا کس پرتے پہ اُمید رکھوں اُس سے جزا کی کاٹوں گا میں کیا خاک؛ کہ بونا نہیں آتا انساں اعتبار کرے زور میں آگ ہے؛ تو زر میں آگ ۳۹۹ ۴۰۰ ۴۰۲ ۴۰۳ ۴۰۴ ۴۰۵ ۴۰۶ کس کیسے نکلی ہے نور ނ ۴۰۷ کھا ۴۰۸ نار ہے جیم دنیا کو رہی گفر کی طاقتوں کا توڑ ہیں ہم باپ میں نور تھا؛ پسر میں آگ شہر میں آگ ہے؛ نگر میں آگ روح اسلام کا نچوڑ ہیں ہم