تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 19
19 پھر فرمایا : ” بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے۔مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ( شکوے شکائیتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے ) ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بڑا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے اَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مينا (الحجرات: 13) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نا دان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یاد شنی پیدا ہو۔یہ سب کمرے کام ہیں۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه 654-653 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه) اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر ہم عمل کرنے والے ہوں اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کرنے والے ہوں۔