تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 24

تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 16

16 یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی میں اس سے بڑی بات ہی کوئی نہیں ہے۔اور اس سے نہ صرف اپنے کاموں میں حرج کر رہے ہوتے ہیں۔ایسی سوچوں کے ساتھ اپنی زندگی بھی اجیرن کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ادھر اُدھر باتیں کر کے جس کے خلاف شکوہ ہوتا ہے اس کی زندگی بھی اجیرن کر رہے ہوتے ہیں۔اور بعض دفعہ ایسے معاملات میرے پاس بھی آجاتے ہیں اور جب تحقیق کرو تو کچھ بھی نہیں نکلتا۔بڑی معمولی سی بات ہوتی ہے۔پھر بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا شکایت کرنے والے کے ساتھ براہ راست معاملہ بھی نہیں ہوتا۔ادھر سے بات سنی ادھر سے بات سنی ، تجسس والی طبیعت ہے شوق پیدا ہوا کہ مزید معلومات لو اور ادھ پچدی جو معلومات ملتی ہیں ان کو پھر فوراً اپنے پاس سے حاشیہ آرائی کر کے اچھالا جاتا ہے۔تو جب کسی کے بارہ میں باتیں کی جاتی ہیں اور انہیں اچھالا جاتا ہے تو اس شخص بیچارے کی زندگی اجیرن ہوئی ہوتی ہے کیونکہ اس ماحول میں اس کو دیکھنے والا ہر شخص ایسی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے وہ بہت بڑا گناہگار انسان ہے۔وہ چھپتا پھرتا ہے۔بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ ایک ایسا گناہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ہر احمدی کو اس سے بچنا چاہئے۔پھر غیبت ایک گناہ ہے جس سے اصلاح کی بجائے معاشرے میں بدامنی کے سامان ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس گندے فعل سے کراہت دلاتے ہوئے فرمایا کہ تم تو آرام سے غیبت کر لیتے ہو۔یہ سمجھتے ہو کہ کوئی بات نہیں ، بات کرنی ہے کرلی۔زبان کا مزا لیتا ہے لے لیا۔یا کسی کے خلاف زہر الگنا ہے اگل دیا۔لیکن یا در کھو یہ ایسا