تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 24

تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 3

3 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف ظاہری حسن دیکھ کر کسی کام کے کرنے پر تیار نہ ہو جاؤ، اس پر آمادہ نہ ہو جاؤ کسی چیز کو دیکھ کر اس کے حسن کو دیکھ کر اس پہ مرنے نہ لگو۔بلکہ جہاں شبہات کا امکان ہے وہاں اچھی طرح چھان پھٹک کر لو اور ہر کام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی اور مدد چاہو۔اس سے کام میں ایک تو برکت پڑتی ہے اور برائیوں میں ڈوبنے سے یا برائیوں کے بداثرات سے انسان بچتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو ہر شر سے محفوظ رکھتا ہے۔دوسری بات یہ واضح فرما دی کہ اگر زندگی میں ہر کام میں تقویٰ کو سامنے نہیں رکھو گے ، پھونک پھونک کر قدم نہیں اٹھاؤ گے، حلال ، حرام کے فرق کو نہیں سمجھو گے تو پھر گناہ کا ارتکاب کرو گے۔جو بھی گناہ کرو گے اس کی سزا ملے گی۔یہ بہانے کام نہیں آئیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں چلا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں ایک اصولی بات یہ بیان فرما دی کہ بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کے مطابق لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔اس لئے تمہیں ہوشیار ہونا چاہئے حلال حرام کے فرق کو پہچانو۔جس کام سے خدا تعالیٰ نے روکا ہے اس سے رک جاؤ۔انم کا لفظ استعمال فرما کر واضح فرما دیا کہ اس ہدایت کے با وجودا گر تم باز نہیں آتے اور غلط راستے پر چلانے والوں کی باتوں میں آتے ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو ظاہر ہے پھر تم جان بوجھ کر کر رہے ہو۔اور جو گناہ جان بوجھ کر کئے جائیں وہ سزا کا مورد بنا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انم، گناہ کے حوالے سے قرآن کریم میں متعدد احکامات دیئے