تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 11
11 ہیں۔نمازیں جو فحشاء کو دور کرنے والی ہیں ان کی ادائیگی میں روک بن جاتے ہیں۔پھر تیروں سے قسمت نکالنا ہے اور آج کل اس کی ایک صورت لاٹری کا نظام بھی ہے اس میں بھی لوگ بے پرواہ ہیں۔زیادہ تر پرواہ نہیں کرتے اور لاٹری کے ٹکٹ خرید لیتے ہیں۔یہ چیز بھی حرام ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب شیطانی کام ہیں۔پس ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ عبادات میں استقامت دکھائے۔نیک اعمال بجالانے کی کوشش میں استقامت دکھائے۔برائیوں اور بے حیائیوں سے بچنے کے لئے استقامت دکھائے اور یہ استقامت اس وقت آئے گی جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نمازوں کی طرف توجہ ہوگی۔پھر نیکی اور تقویٰ میں بڑھنے اور گناہوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ اس طرح حکم فرمایا ہے کہ فرمایا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللهَ ـ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائده : 3) کہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی ( کے کاموں ) میں تعاون نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔میہ ( دین حق ) کی خوبصورت تعلیم ہے کہ اس میں پہلے یہ بیان کر کے کہ دشمن کی زیادتی اور دشمنی بھی تمہیں کسی قسم کی زیادتی پر آمادہ نہ کرے، پھر فرمایا کہ نیکی اور تقویٰ میں ہمیشہ تمہارا تعاون رہے۔اصل تقویٰ تو ایک مومن کے اندر ہے اور ہونا چاہئے۔پس نیکی کے کاموں میں تقویٰ سے کام لیتے ہوئے تعاون ہمیشہ جاری رہنا چاہئے اور