بدرگاہ ذیشانؐ — Page 82
82 کہوں کیا تھے تیرے افکار اور اشغال کے مرکز خدا طلبی، خدا جوئی - خدا بینی - خدادانی عرب کے تیرہ و تاریک دل لوگوں کو تو نے ہی نکالا قصر ظلمت ست سے بنایا اُن کو نورانی وہ جن کی ضرب سے ٹوٹا غرور قیصر و کسری سکھایا تھا تجھی نے ان کو آئین جہانبانی غلاموں کو کیا آزاد لیکن اہل حکمت کو پسند آئی دل و جاں سے ترے ہی گھر کی دربانی ذلیل وخوار اور نا کام دشمن ہو گئے سارے تجھے ہر گام پر حاصل ہوئی تائید ربانی غلامی تیری خالد کو ہے ہر اعزاز سے پیاری کہ رہتے میں تری چوکھٹ ہے رشک تاج سلطانی ملک نذیر احمد ریاض اے کعبہ مہر و وفا اے قبلہ صدق و صفا اے مخزن جودو سخا اے معدنِ فہم وذ کا اے منبع علم و ہدئی کن چاره آزار ما اے بارش ابر کرم اے نازشِ خیر امم