بدرگاہ ذیشانؐ — Page 79
79 بروز محشر خدا کی رحمت اُنہی پہ سایہ کرے گی آکر جنوں نے بڑھ کر لکھا دیا ہے ترے شہیدوں میں نام جن کا انہی کی مستی ہے میکدوں میں انہی کا چرچاہے میکشوں میں بلا تامل رواں ہے اب تک تمام رندوں میں جام جن کا ہمارے دل کا تو پوچھنا کیا انہی کا قائل اُنہی پہ مائل ! بلند رتبہ ہے بادشاہوں سے ایک ادنی غلام جن کا انہی کے قانون زندگی سے نظام ہیں زندگی کے قائم نہیں ہے گرچہ جدید پھر بھی جدید تر ہے نظام جن کا وہ نور دیکھو، ظہور دیکھو، جمال دیکھو، کمال دیکھو وہی ہیں عقبے میں میر حفل سُنا تھا دُنیا میں نام جن کا انہی کے پیغام ضوفشاں سے چھٹیں گی تاریکیاں جہاں کی عرب کے ظلمت کدوں میں پہلے کبھی تھا گونجا پیام جن کا نہیں یہ جرات تو اور کیا میں اُنکی توصیف کر رہا ہوں خدا نے ذوق طلب میں ثاقب کیا ہے خود احترام جن کا ہے نامِ نامی تمہارا لب پر درود تم پر سلام تم پر ادھر بھی ہو اک نگاہ سرور درُود تم پر سلام تم پر (شہاب ثاقب)