بدرگاہ ذیشانؐ — Page 70
70 لاریب قریشی عبد الرحمن ابد دل میں حبیب پاک کی الفت لئے ہوئے ہوں مطمئن اُمید شفاعت لئے ہوئے اُس پر آتش دوزخ حرام ہے عاصی ہے سر پہ دامنِ رحمت لئے ہوئے خُلق عظیم کی ہے وہ نعمت لئے ہوئے ہر طور ہر طریق میں شفقت لئے ہوئے دل میں یہی ہے تیرے صحیفے کو چوم لوں ہر سو پھروں حضور کی برکت لئے ہوئے پہنچا نہ کوئی اور نہ پہنچے گا تا ابد وہ آمنہ کا لال ہے عظمت لئے ہوئے عبد السلام اختر ہے کتنا دلنشیں اُس رحمت انوار کا سایہ زمیں پر آ کے جس نے آسماں کا نور پھیلایا مبارک وہ جو اس عالم میں آپ زندگی لایا خدا کا چہرہ زیبا زمانے بھر کو دکھلایا خرد کی کم نگاہی کو جنوں کا راز سکھلایا نگاہ و دل کو تڑپایا تو روح و جاں کو گرمایا وہ تنہا تھا مگر تنہا ہر اک دشمن سے ٹکرایا نہ کچھ باطل سے وہ جھجکا نہ کچھ ظلمت سے گھبرایا ہر اک سختی گوارا کی ، ہر اک بیداد کو جھیلا ہر اک مشکل کو اپنایا ، ہر اک الجھن کو سلجھایا ہزاروں آندھیوں کے سامنے اُس بندہ حقوق نے ہر اک سیلاب کو روکا ، ہر اک طوفان پر چھایا گلوں کو نکہتیں ، قلب و نظر کو طلعتیں بخشیں گلستانوں کو نکھرایا بیابانوں کو مہکایا