بدرگاہ ذیشانؐ — Page 68
68 لکھوں لکھوں مخزن صداقتوں کا لکھوں کانِ معرفت یا موتیوں سے ایک سمندر بھر الکھوں نور خدا سے ساری زمیں جگمگا اُٹھی اُس کا ظہور میں تو ظہورِ خدا لکھوں صدیوں کے مُردے اُس نے دنوں میں جلا دیئے تھا کس مقام کا وہ مسیحا میں کیا لکھوں اُس میں نہاں خدا تھا خدا میں نہاں تھا وہ میں اِن کو ایک جان دو قالب سید الکھوں ہو جانا اُس کی راہ میں ہر شے سے دستکش ہے کیمیا گری تو یہی برملا لکھوں مرتا ہوں بات بات پہ تیری میرے رسول اور تیری بات بات کو میں جانفر الکھوں پر درود بھیجتا ہے عرش سے خدا پھر کیوں نہ بار بار میں صلے علیٰ نبیوں میں ایک تو ہے کہ جاری ہے جس کا فیض زندہ نبی تجھی کو میں یا مصطفی آئے تھے لے کے حسنِ ازل سارے انبیاء پر تیرے حسن کو میں ہر اک سے سوالکھوں ہر خو برو میں جلوہ تیرے حسن ہی کا ہے میں ہر حسیں ادا کو تری ہی ادالکھوں باعث بھی دل کے درد کا ہے تو ہی اے رسول تجھ کو ہی دل کے درد کی پیارے دو الکھوں جو تیری پاک ذات میں بھی دیکھتا ہو عیب میں اسکو کورچشم لکھوں بے حیاء لیکھوں تو ہی تو قوس بندہ وخالق کی تاب ہے تجھ کو ہی میں تو شافع روز جز الکھوں مجزو تیری راہ قرب کی ہر راہ بند ہے تجھ کو ہی میں وسیلہ وصل خدا لکھوں پیارے ترے فراق میں جو کٹ گئے ہیں دن دن زندگی کے میں انہیں کیسے بھلا لکھوں لکھوں اگر قرآن کے میں آدموں کے نام انسان ، کاملین شہر انبیاء لکھوں اسماء حق کے ظاہری مظہر تھے سب نبی ہاں مظہر اتم میں تجھے مصطفیٰ لکھوں تجھ سا کوئی ہوا نہ کبھی ہوگا اے رسول لاریب تجھ پر ختم میں سب انبیا لکھوں