بدرگاہ ذیشانؐ — Page 67
67 پر معین الدین ہے دل میں جوش نعت شیر انبیا لکھوں جس کی شنا محال ہے اُس کی شنالکھوں پھر اپنی بے بضاعتی کو دیکھتا ہوں میں اورسوچتا ہوں کیسے لکھوں اور کیالکھوں جس کی کہ خوبیوں کا احاطہ محال ہو اس کی مدح میں ہیچمداں کیا بھلا لکھوں وہم وگماں میں آنہ سکے جس کا مرتبہ اس کی ثنا ہے کارِخدا باخدا لکھوں لیکن رضائے رب محمد کے واسطے سوچا ہے کہ تو مانگ کے میں بھی ڈھالکھوں بد الدجی لکھوں اُسے شمس الضحی لکھوں باتوں کی ایک بات ہے نورِ خدا لکھوں احمد بھی اس کا نام محمد بھی اس کا نام عاشق لکھوں کہ اس کو حبیب خدا لکھوں۔بیا خدا کا اُسے آئینہ لکھوں سر تا بپا خدا ہی خدا اُس میں تھا نہاں سر تا خوف خدا سے گونہ میں اُس کو خدا لکھوں لیکن خدا نما تو اُسے برملا بندوں کو اپنے بندے کہا جسکو تو نےخود لکھوں مولیٰ بتا میں اس تیرے پیارے کو کیا لکھوں تھا اُس کا ہاتھ ہاتھ خداوند پاک کا بیعت کو اُس کی بیعت رب الور کی لکھوں احسان میں نہ حُسن میں اُس کا کوئی نظیر بعد از خدا اسی کو میں سب سے بڑالکھوں ی بھی درست گر اسے لکھوں کمال حسن یہ بھی بجا ہے عشق کی جو انتہا لکھوں لکھوں سو معجزوں کا معجزہ خود اُس کی ذات ہے محتاج معجزہ اسے کیسے بھلا اُتر ا جو اُس کے قلب پر قرآن کی شکل میں اس آب وحی پاک کو آپ بقالکھوں بیمار دل کے واسطے لکھوں اُسے شفا یا شہر آسمان سے اُترا ہوا لکھوں