بدرگاہ ذیشانؐ — Page 42
42 ہوا قرآن اُس کے دل پہ نازل وہ دل کیا ہے کہ عرش کبریا ہے وہی زندہ نبی ہے تا قیامت کہ لنگر فیض کا جاری سدا ہے امام سالکان برق رفتار کہ سدرہ ایک شب کی منتہی ہے (بخار دل) حضرت میر حامد شاہ جلوة حق دکھا دیا تو نے کفر یکسر مٹا کفر یکسر مٹا دیا تو نے تیرے قربان اے نبی عرب سیدھا رستہ بتا دیا تو نے راہ حق میں پڑے تھے جو پتھر اُن کو آ کر ہٹا دیا تو نے خواب غفلت میں سونے والوں کو اُٹھ کے آخر جگا دیا تو نے وحشیوں کو عرب کے اے ہادی آ کے انساں بنا دیا تو نے پوچھے جاتے تھے جو نہ دنیا میں اُن کو سلطاں بنا دیا تو نے جونہ دین و دنیا کی بادشاہت کا کیا سکہ جما دیا تو نے وعظ اپنا سنا دیا تو نے قوم کو لطف و مہر سے شاہا تو نے ہر وقت رحم کو برتا کرم اپنا دکھا دیا تو نے قوم نے سختیاں جو پہنچائیں کر کے نرمی ہرا دیا تو نے سرکشان عرب کو اے آقا خاک و خوں میں ملا دیا تو نے دشمنوں کے سبھی قصوروں کو فتح پا کر بھلا دیا تو نے