بدرگاہ ذیشانؐ — Page 26
26 اے پشم خزاں دیدہ کھل گھل کہ سماں بدلا اے فطرت خوابیدہ اُٹھ اُٹھ کہ بہار آئی نبیوں کا امام آیا، اللہ امام اُس کا سب تختوں سے اونچا ہے تخت عالی مقام اُس کا اللہ کے آئینہ خانے سے شریعت کی نکلی وہ دُلہن ، کر کے جو سولہ سنگار آئی اترا وہ خدا کوہ فارانِ محمد پر موسیٰ کو نہ تھی جس کے دیدار کی یارائی سب یادوں میں بہتر ہے وہ یاد کہ کچھ لمحے جو اُس کے تصور کے قدموں میں گزار آئی وه ماه تمام اُس کا مہدی تھا غلام اُس کا اُس کا روتے ہوئے کرتا تھا وہ ذکر مدام مرزائے غلام احمد تھی جو بھی متاع جاں کر بیٹھا نثار اُس پر۔ہو بیٹھا تمام اُس کا دل اُس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اس کا اخلاص میں کامل تھا وہ عاشق تام اُس کا اس دور کا یہ ساقی۔گھر سے تو نہ کچھ لایا کے خانہ اُسی کا تھا۔ئے اُس کی تھی جام اُس کا سازندہ تھا یہ، اسکے۔سب ساجھی تھے میت اُسکے دھن اسکی تھی گیت اُسکے۔لب اسکے پیام اُس کا اک میں بھی تو ہوں یا رب۔صید نہ دام اُسکا دل گاتا ہے گن اُسکے۔لب جیتے ہیں نام اُسکا آنکھوں کو بھی دکھلا دے۔آنالب بام اُس کا کانوں میں بھی رس گھولے۔ہر گام - خرام اُسکا خیرات ہو مجھ کو بھی۔اک جلوہ عام اُس کا پھر یوں ہو کہ ہو دل پر۔الہام کلام اُس کا اُس بام سے نو را ترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اٹھے خوشبو۔ہو جائے سُرود عنبر