بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 138 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 138

138 ہو ذوق تماشا کہ شرم و حجاب۔محبت کی دُنیا کا ہر اضطراب حسینوں کے جھرمٹ کا ہر بے نقاب۔کتاب محبت کا ہر ایک باب ہے منسوب کرنا تمہارے لئے یہ بت ریزہ ریزہ یہ سارے صنم۔ہمارا یہ مرنا ہمارے جنم ترے کام آؤں میں شاہ اُمم۔نہ جینے کی الفت نہ مرنے کا غم میرا جینا مرنا تمہارے لئے ہو پانی میں کشتی کہ دشت و سراب۔سمندر کی لہروں کا سب پیچ و تاب برستے سے بادل چمکتے شباب۔ہر اک جھیل یہ ماہتاب آفتاب یہ ڈھلنا اُبھرنا تمہارے لئے کٹھن راہ الفت کا ہر راہرو۔کوئی سر بکف ہو کہ ہو تیز رو کہیں رک کے دم لے بھلا کون ہو۔وہ کون ایسا ہوگا کہ بھاگے نہ جو یہ چلنا ٹھہرنا تمہارے لئے ادائے حسیں شوخی دلبری سخن گستری یا سخن پروری مہم جو کی ہر ایک پیشہ وری۔ہر اک کو بکن کی وہ تیشہوری یہ حد سے گزرنا تمہارے لئے یہ سب بوڑھے بچے ، یہ سب مردون۔یہ سب اہل دانش یہ سب اہل فن یہ با ہم مروت یہ سب حسن ظن۔نکھرتا سا قدرت کا یہ بانکپن نظر سے گذرنا تمہارے لئے